دہشتگردی کی دفعات کا اطلاق، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو صحافی کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے صحافی کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق کے معاملے میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا ۔ کیس کی سماعت جمعرات کو جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے دہشتگردی کی …

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے صحافی کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق کے معاملے میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا ۔ کیس کی سماعت جمعرات کو جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے دہشتگردی کی دفعات کے خاتمے سے متعلق دائر درخواست کو جلد مقرر کر کے اس پر فیصلہ کیا جائے۔سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے پر فیصلہ نہیں کرتی، اس وقت تک ٹرائل کورٹ فردِ جرم عائد نہیں کر سکتی۔واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے خلاف دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کے لیے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تاہم ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔سماعت کے دوران مطیع اللہ جان کی جانب سے وکیل قدیر جنجوعہ پیش ہوئے۔