چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بار عدالتی نظام کا ایک بنیادی اور اہم فریق ہے اور مؤثر و بروقت انصاف کی فراہمی وکلاء برادری کے ساتھ مسلسل تعاون اور تعمیری روابط سے ہی ممکن ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بار عدالتی نظام کا ایک بنیادی اور اہم فریق ہے اور مؤثر و بروقت انصاف کی فراہمی وکلاء برادری کے ساتھ مسلسل تعاون اور تعمیری روابط سے ہی ممکن ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید کی قیادت میں آنے والے وفد نے مقدمات کے انتظام اور طریقہ کار کو آسان بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر کاز لسٹ کے بروقت اجراء، پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر سے مصدقہ نقول کے حصول کے لئے ونڈو سروسز، التوا اور جلد سماعت کی درخواستوں کو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے بغیر جمع کرانے کی سہولت اور بیرونِ شہر وکلاء کے لئے کیس فکسنگ میں لچک جیسے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی سہولت کے لئے ان کے مقدمات کو ہفتے کے مخصوص دنوں میں مقرر کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ وہ مؤثر انداز میں عدالتی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔ بار نمائندگان نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ امور پر باقاعدہ تجاویز تحریری طور پر پیش کی جائیں گی۔بعد ازاں راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سعید یوسف خان اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود ساجد اعوان کی قیادت میں آنے والے وفود نے بھی چیف جسٹس سے ملاقات کی جس میں لائبریری سہولیات کے فروغ اور وکلاء کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس موقع پر جاری عدالتی اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی سطح پر ای لائبریریز، عدالتوں کی سولرائزیشن، ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام اور صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے جنہیں اگست 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے اگلے مرحلے میں جینڈر رسپانسیو جسٹس انیشیٹو کے تحت ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کو ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ خواتین سائلین کو محفوظ اور سہل ماحول میں قانونی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔چیف جسٹس نے وکلاء کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز سے بھرپور استفادہ کرنے کی بھی ترغیب دی تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں اور عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں کردار ادا کریں۔








