پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت مسلسل پیش رفت حاصل کی ہے،عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال اور مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے اجلاس میں گفتگو
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت مسلسل پیش رفت حاصل کی ہے،عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال اور مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے اجلاس میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت مسلسل پیش رفت حاصل کی ہے اور اہم جائزوں کی کامیاب تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مقداری اور ڈھانچہ جاتی اہداف کے حصول میں پرعزم ہے، حکومت نے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال اور مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کویہاں عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں کہی۔وفد کی قیادت جیفریز فنانشل گروپ نے کی۔ اجلاس میں پاکستان میں کلی معیشت کے منظرنامے، اصلاحات کے عمل میں پیش رفت اور بدلتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی گفتگوہوئی،اس سیشن میں عالمی سطح کے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی، جہاں 250 سے زائد سرمایہ کار شریک تھے،شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان کے ساتھ جیفریز کی مسلسل شراکت داری اور عالمی سرمایہ کاری برادری کے ساتھ مکالمے کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستاناصلاحات پر مبنی معاشی ایجنڈے پر کاربند ہے، جس کی بنیاد کلی میعشت کے استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی پر ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت مسلسل پیش رفت حاصل کی ہے، اہم جائزوں کی کامیاب تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مقداری اور ساختی اہداف پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مالیاتی اور بیرونی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ضروری اصلاحات کو آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کو ظاہر کررہی ہے۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال اور مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے،پورے حکومتی نظام پر مشتمل ایک جامع طریقہ کار اپنایا گیا ہے تاکہ سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے، توانائی کی دستیابی کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے اور مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہدف پر مبنی اور ڈیجیٹل طریقے سے فراہم کی جانے والی سبسڈیز نے معاشی طورپرکمزور طبقات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شفافیت اور مالیاتی ذمہ داری کو بھی یقینی بنایا ہے۔وزیر خزانہ نے بیرونی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یورو بانڈ کی ادائیگی منظم انداز میں کی جا رہی ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ اور مالی ذمہ داریوں کی پاسداری کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر خزانہ نے جاری اہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، وفاقی حکومت کے حجم کو مناسب سطح پر لانے اور سرکاری ملکیتی اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محصولات میں اضافہ ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اور ڈیجیٹلائزیشن، بہتر تعمیل اور مالی رساو میں کمی کے ذریعے جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کیشرح میں اضافہ مالیاتی پائیداری اور بیرونی جھٹکوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ابھرتے ہوئے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطہ کاری اور لاجسٹکس کے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بندرگاہوں، خصوصاً گوادر میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایک اہم بحری اور ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر مزید مستحکم بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے زراعت، معدنیات و کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور قابلِ تجدید توانائی، خصوصا شمسی توانائی کے فروغ میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ مالیاتی قدر کا ماحول عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کررہاہے ، جس میں اصلاحات کی رفتار برقرار رہنے اور معاشی اعتماد مضبوط ہونے کے ساتھ نمایاں ترقی کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل پالیسی اقدامات اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھے گی۔سرمایہ کاروں کو ملک کی بیرونی مالیاتی حکمت عملی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں پانڈا بانڈز کے اجرا کے منصوبے کو فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع لانے اور سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا کہ بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی کے لیے یورو بانڈ اور سکوک جیسے آپشنز زیر غور ہیں، جن میں قیمت، مدت اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط قرضہ جاتی نظم و نسق کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل اثاثوں جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ جدت کو فروغ دیا جا سکے، صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو بڑھایا جا سکے۔سرمایہ کاروں نے پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کو نسبتاً پرکشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور مسابقتی مالیاتی قدر درمیانی مدت میں نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں، خصوصاً جب اصلاحات کی رفتار برقرار رہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔شرکاء نے حکومت کی اصلاحات کی کوششوں اور فعال پالیسی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتے میکرو اکنامک اشاریے، مضبوط بیرونی مالیاتی ذخائر اور زیادہ مستحکم معاشی منظرنامہ مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔
انہوں نے اصلاحات کے تسلسل، پالیسی کے استحکام اور مؤثر رابطہ کاری کو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافے اور سرمایہ کاری کے بہائو کو فروغ دینے کے لیے ضروری قرار دیا۔اجلاس کا اختتام عالمی معاشی پیش رفت اور علاقائی صورتحال پر تعمیری تبادلہ خیال کے ساتھ ہوا، جس میں فریقین نے پاکستان کے طویل مدتی معاشی اہداف اور سرمایہ کاری کے امکانات کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں **چیئرمین پی وی اے آر اے (ورچوئل)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر اور فنانس ڈویژن کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔








