ترک پارلیمنٹ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام اور دیگر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حوالے سے مسودہ قانون پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ترک پارلیمنٹ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے مسودہ قانون پر بحث شروع

مزید خبریں
انقرہ ۔8اپریل (اے پی پی):ترک پارلیمنٹ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام اور دیگر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حوالے سے مسودہ قانون پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق ترک پارلیمنٹیرینز نےمسودہ قانون میں تجویز کیا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا کے مختلف آؤٹ لیٹس سے دور رکھا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون منظور کیا جائے تاکہ یہ پابندی سختی سے عائد کی جا سکے۔اگر ترکیہ نے یہ قانون منظور کر لیا تو متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنے پروگرام انسٹال کرنے کے طریقوں میں بچوں کی عمر اور اس کی تصدیق کے ذرائع اختیار کرنا ہوں گے۔ تاکہ بچے ان سوشل میڈیا پر غیر متعلق اور نقصان دہ مواد سے بچ سکیں۔ تاہم ابھی واضح نہیں ہے کہ ترکیہ کی پارلیمنٹ میں یہ بحث کتنے دن جاری رہے گی۔ترکیہ کے صدرجب ر طیب اردوان کی حکومت کا اس تجویز کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ تجویز بچوں کے لیے آن لائن خطرات کی روک تھام کے لیے پیش کی گئی ہے، تاکہ بچوں کی صحت، تعلیم اور اخلاقیات کی حفاظت ہو سکے۔حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی بڑی جماعت نے اس تجویز پر تنقید کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ بچوں کا تحفظ پابندیوں سے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ بہتر پالیسیوں کی مدد سے کیا جانا چاہیے۔








