عالمی ترقیاتی مالی رجحانات خطرناک سمت میں جا رہے ہیں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ترقیاتی مالیات کے رجحانات درست سمت میں نہیں جا رہے، بلکہ کئی شعبوں میں پیش رفت رکنے کے ساتھ ساتھ الٹ سمت میں جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ ۔10اپریل (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ترقیاتی مالیات کے رجحانات درست سمت میں نہیں جا رہے، بلکہ کئی شعبوں میں پیش رفت رکنے کے ساتھ ساتھ الٹ سمت میں جا رہی ہے۔شنہوا کی رپورٹ کے مطابق کمزور عالمی تعاون، بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں ، سیاسی و جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ترقی پذیر ممالک کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ خاص طور پر غریب اور کمزور ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے درکار فنڈز میں بڑی کمی کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی نائب سیکرٹر ی جنرل آمنہ محمدنے کہا کہ عالمی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، بصورت دیگر اب تک کی گئی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق “سیویلا کمٹمنٹ” پر عملدرآمد عالمی تعاون کو فروغ دینے اور ضروری مالی وسائل فراہم کرنے کا بہترین موقع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو بڑھتے ہوئے قرضوں، کم ہوتی بیرونی امداد، کم سرمایہ کاری اور بلند شرح سود جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ 2024 میں قرضوں کی ادائیگی 20 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی امور کے شعبے کے سربراہ لی جن ہوانے کہا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ سیاسی عوامل معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں ریکارڈ 2.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ فوسل فیول میں سرمایہ کاری کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ممالک کو کثیرالجہتی نظام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور عالمی و علاقائی تعاون کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات جاری رکھنے چاہئیں۔