صدر آئی سی سی آئی کا اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم
صدر آئی سی سی آئی کا اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم
اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی معاشی استحکام اور عالمی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک تاریخی اور فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔ہفتہ کوجاری بیان میں صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ان اہم مذاکرات کی کامیاب میزبانی اس کے ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر عالمی کردار کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں طویل کشیدگی کے باعث عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کےدرمیان جاری بات چیت کا مقصد حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنا ہےجس نے عالمی توانائی سپلائی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا۔صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہےخصوصاً آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک حیثیت کے باعث، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج توانائی کی منڈیوں پر دباؤ کم کرنے، مہنگائی میں کمی لانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گے۔سردارطاہر محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دونوں ممالک کومذاکرات کی میز پر لانے میں کردار اس کے امن، مکالمے اور تعمیری سفارتکاری کے عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسےاعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری ان مذاکرات کو امید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہےکیونکہ خلیجی اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں امن پاکستان کی معیشت پر براہِ راست مثبت اثر ڈالے گاجس سے توانائی کی مستحکم فراہمی، تجارت میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن صرف مسلسل مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں اور کشیدگی سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں جو پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔









