پاکستان زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اربوں روپے کی بچت کر سکتا ہے، شاہد عمران

پاکستان زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اربوں روپے کی بچت کر سکتا ہے، شاہد عمران

لاہور۔12اپریل (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی،خصوصا ڈی ہائیڈریشن (خشک کرنے) کی ٹیکنالوجی اپنا کر ہر سال زرعی پیداوار کے ضیاع سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچ سکتا ہے۔اتوار کو لاہور میں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن، اجناس کی شیلف لائف میں اضافہ اور کسانوں و کاروباری افراد کے لیے نئی منڈیوں کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

شاہد عمران نے زرعی شعبے میں فصلوں کے نقصانات کو کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹماٹر، مٹر، آم، پیاز، اسٹرابیری، کیلے اور کینو جیسے پھلوں اور سبزیوں کی بڑی مقدار خراب ہونے کے باعث ہر سال20 سے40 فیصد تک ضائع ہو جاتی ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔اس کو جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ویلیو ایڈیشن کے ذریعے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے،جس سے نہ صرف زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

وفد کے سربراہ چوہدری محمد افضل گجر نے زرعی اجناس کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے ملکی سطح پر سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ بہتر ترسیل اور ذخیرہ کاری کے نظام سے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے اور مجموعی پیداوار کے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔