مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں ، فرانسیسی صدر

فرانس کے صدر ایمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں ۔ بی بی سی کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

پیرس۔13اپریل (اے پی پی):فرانس کے صدر ایمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں ۔ بی بی سی کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا تصفیہ خطے کو ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے تحت تمام فریق امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں، جن میں ایران کی جوہری اور بیلسٹک سرگرمیوں، خطے میں اس کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات، آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا تعطل جہاز رانی کی فوری بحالی اور لبنان کی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ امن کی راہ پر واپسی شامل ہیں۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وہ تنازع کے آغاز سے ہی کرتا آیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں وہ ممالک شریک ہوں گے جو ایک پُرامن، کثیر القومی مشن میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس مشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی ہے۔ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور تنازع کے فریقین سے الگ رہے گا اور حالات سازگار ہوتے ہی تعینات کیا جائے گا۔