اقوام متحدہ نے سوڈان کی خانہ جنگی کے تین سال مکمل ہونے پر خبردار کیا ہے کہ دنیا کا بدترین انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے،
سوڈان جنگ چوتھے سال میں داخل، اقوام متحدہ کا انسانی بحران سنگین تر ہونے کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔15اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ نے سوڈان کی خانہ جنگی کے تین سال مکمل ہونے پر خبردار کیا ہے کہ دنیا کا بدترین انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹر ی جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچرنے کہا کہ سوڈان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ افراد، یعنی ہر تین میں سے دو افراد، انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ بھوک، بچوں میں شدید غذائی قلت اور خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ادھر یواین وویمن نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے دوران صنفی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور بچیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کی علاقائی ڈائریکٹر انا متواتی کے مطابق خواتین کو گھروں میں ہی زیادتی اور قتل کا سامنا ہے، جبکہ نقل مکانی کے دوران بھی وہ شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 43 لاکھ سے زائد خواتین اور بچیاں بے گھر ہو چکی ہیں، جبکہ ایک کروڑ 71 لاکھ کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن میں سے اکثر کو خوراک، رہائش اور طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔بچوں کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ یونیسف کی نمائندہ ایوا ہندس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں کم از کم 245 بچے ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک 5700 سے زائد سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور او سی ایچ اے کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 700 شہری جاں بحق ہوئے۔ حالیہ حملے میں مشرقی دارفور میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور فنڈنگ میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید تاخیر انسانی المیے کو مزید گہرا کر دے گی۔








