آکسفورڈ اے کیو اے کا امتحانی نظام تبدیل، طلبہ کے لیے نئی سہولتوں کا اعلان
آکسفورڈ اے کیو اے کا امتحانی نظام تبدیل، طلبہ کے لیے نئی سہولتوں کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):آکسفورڈ اے کیو اے نے اپنے بین الاقوامی امتحانی نظام میں اہم اور انقلابی اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد طلبہ کو زیادہ سہولت، بہتر منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔
یہ ادارہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور برطانیہ کے معروف امتحانی بورڈ اے کیو اے کے اشتراک سے کام کرتا ہے اور دنیا بھر میں جی سی ایس ای اور اے لیول کے امتحانات فراہم کرنے والا ایک بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔
اعلان کے مطابق نئی اصلاحات 2026ء سے 2029ء کے دوران مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔ ان میں امتحانی نتائج کا جلد اجراء، سال میں تین امتحانی سیشنز کا انعقاد اور انٹرنیشنل ای پی کیو جمع کرانے کے لیے سال میں دو مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق مئی/جون کے امتحانات کے نتائج جولائی 2027ء سے پہلے جاری کیے جائیں گے۔ 2027ء میں انٹرنیشنل AS/A لیول کے نتائج 28 جولائی جبکہ انٹرنیشنل جی سی ایس ای کے نتائج 4 اگست کو جاری ہوں گے۔
مزید برآں 2028ء سے تمام انٹرنیشنل AS/A لیول مضامین کے لیے اکتوبر/نومبر کا امتحانی سیشن متعارف کرایا جائے گا جبکہ 2029ء سے بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، ریاضی، ایڈوانس ریاضی اور معاشیات جیسے مضامین کے لیے جنوری میں بھی امتحانات لیے جائیں گے۔ اسی طرح مئی 2026ء سے انٹرنیشنل ای پی کیو جمع کرانے کے لیے سال میں دو بار مواقع فراہم کیے جائیں گے جس سے طلبہ کو اپنے تحقیقی منصوبوں کی تیاری اور بہتری کے لیے اضافی وقت میسر آئے گا۔
منیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ اے کیو اے نے کہا کہ ادارہ بین الاقوامی امتحانات کو مزید موثر اور قابل رسائی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق یہ اصلاحات سکولوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ تدریسی نظام اور امتحانی عمل میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق نتائج کے جلد اجراء سے طلبہ کو عالمی جامعات میں داخلے کے لیے زیادہ وقت ملے گا جبکہ امتحانی سیشنز میں اضافے سے مختلف تعلیمی کیلنڈرز پر عمل کرنے والے سکولوں کو بہتر سہولت حاصل ہوگی۔ 2027ء سے مئی/جون امتحانی سیشن کے لیے اندراج کی آخری تاریخ مارچ کے اوائل تک بڑھا دی جائے گی جس سے سکولوں اور طلبہ کو بہتر فیصلہ سازی میں مدد ملے گی تاہم امتحانات کے اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔








