عالمی خیراتی ادارےورلڈ سینٹرل کچن ( ڈبلیو سی کے)کے بانی جوز اینڈریس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ عالمی سطح پر قحط کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ عالمی سطح پر قحط کا باعث بن سکتی،ڈبلیو سی کے
واشنگٹن۔17اپریل (اے پی پی):عالمی خیراتی ادارےورلڈ سینٹرل کچن ( ڈبلیو سی کے)کے بانی جوز اینڈریس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ عالمی سطح پر قحط کا باعث بن سکتی ہے۔رشیا ٹوڈے کے مطابق جوز اینڈریس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے کھاد کی سپلائی میں رکاوٹیں عالمی سطح پر خوراک کے ایسے بحران کو جنم دینے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں جو کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس کشیدگی نے پہلے ہی ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔آبنائے ہرمز کا بحری راستہ عالمی خام برآمدات کا تقریباً 20 فیصد ہینڈل کرتا ہے بلکہ یہ نائٹروجنی کھادوں کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔جوز اینڈریس نے کہا کہ کھاد کی فراہمی میں تاخیر سے فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں کم پیداوار اور غذائی اشیا کی قیمتوں اضافے کے چین ری ایکشن کو ہوا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے صرف تیل کی ترسیل نہیں ہوتی ۔
انہوں نے کہا کہ میں 2026 اور 2027 کے موسم خزاں تک پوری دنیا میں قحط کے خدشات میں بہت بڑے اضافے کی پیش گوئی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آبنائےہرمز اور اس کے ارد گرد جہاز رانی میں رکاوٹیں پہلے ہی کھاد کی سپلائی کو متاثر اور کسانوں کی لاگت کو بڑھا رہی ہیں ۔اس جنگ کے باعث خلیج میں کھاد کے پلانٹس کے بند ہونے کی اطلاع بھی سامنے آرہی ہیں جس سے سپلائی میں مزید تناؤ آ رہا ہے۔ نائٹروجنی کھادوں کا عالمی سطح پر بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے اور غذائی اجناس کی پیداوار کے تقریباً نصف حصہ میں ان کھادوں کا اہم کردار ہے۔ خلیج اہم برآمدی مرکز ہے جہاں بحری راستوں میں رکاوٹوں نے فصلوں کی بیجائی کے موسم کے دوران قلت کو شدید ترکر دیا ہے۔
جوز اینڈریس نے خبردار کیا کہ اس صورتحال سے غریب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے حکومتوں کو قومی بجٹ کا کچھ حصہ فوڈ سکیورٹی کے لیے مختص کرنے کا مشورہ دیا۔ادھر،اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے وسیع تر اقتصادی اثرات کی وجہ سے 162 ممالک میں 32 ملین افراد خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں جس میں درآمدات پرانحصار کرنے والے ممالک کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہو گا۔ سب سے زیادہ بوجھ ایشیا کے کچھ حصوں، سب صحارا افریقا اور چھوٹے جزیروں کی ریاستوں پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔









