انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 سے ڈیزل ایندھن کی درآمد بند کر دے گا، کیونکہ ملک میں B50 بائیو فیول نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں 50 فیصد ڈیزل اور 50 فیصد کروڈ پام آئل (CPO) شامل ہوگا۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق وزیرِ زراعت آندی عمران سلیمان نے سپیولُو نُوُمبر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ITS) میں کہا کہ ہم اب ڈیزل درآمد …
انڈونیشیا کا یکم جولائی سے ڈیزل ایندھن کی درآمد بند کرنے کا اعلان

مزید خبریں
جکارتہ۔20اپریل (اے پی پی):انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 سے ڈیزل ایندھن کی درآمد بند کر دے گا، کیونکہ ملک میں B50 بائیو فیول نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں 50 فیصد ڈیزل اور 50 فیصد کروڈ پام آئل (CPO) شامل ہوگا۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق وزیرِ زراعت آندی عمران سلیمان نے سپیولُو نُوُمبر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ITS) میں کہا کہ ہم اب ڈیزل درآمد نہیں کریں گے۔ یکم جولائی 2026 سے ہم ڈیزل کی درآمد بند کر دیں گے کیونکہ B50 نافذ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی توانائی میں خود کفالت کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت پام آئل کو متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پام آئل کو نہ صرف ڈیزل بلکہ پٹرول اور ایتھانول میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور اس کی ترقی کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ انڈونیشیا کا مستقبل کا ایندھن ہے کیونکہ یہ پام آئل سے حاصل ہوتا ہے۔ حکومت اس منصوبے کے لیے سرکاری زرعی کمپنی PTPN IV کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے تاکہ پام آئل پر مبنی پٹرول کو پہلے چھوٹے پیمانے پر تیار کیا جائے اور بعد میں اسے بڑے صنعتی پیمانے پر بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ کامیاب ہوا تو ہم اسے بڑے پیمانے پر پھیلائیں گے۔ انڈونیشیا کا مستقبل روشن ہے۔








