چین میں اقتصادی سرگرمیوں کے اہم اشاریے کے طور پر دیکھی جانے والی بجلی کی کھپت 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑھ کر 25.1 کھرب کلوواٹ آور سے تجاوز کر گئی جو سالانہ بنیاد پر 5.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
چین میں پہلی سہ ماہی کے دوران بجلی کی کھپت میں 5.2 فیصد اضافہ

مزید خبریں
بیجنگ۔20اپریل (اے پی پی):چین میں اقتصادی سرگرمیوں کے اہم اشاریے کے طور پر دیکھی جانے والی بجلی کی کھپت 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑھ کر 25.1 کھرب کلوواٹ آور سے تجاوز کر گئی جو سالانہ بنیاد پر 5.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
شنہوا کے مطابق یہ اعداد و شمار قومی توانائی انتظامیہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق مختلف شعبوں میں بجلی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پرائمری سیکٹر میں بجلی کی کھپت 7.1 فیصد اضافے کے ساتھ 33.6 ارب کلوواٹ آور تک پہنچ گئی۔سیکنڈری سیکٹر میں تقریباً 16 کھرب کلوواٹ آوربجلی استعمال کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔
اس شعبے میں ہائی ٹیک اور آلات سازی کی صنعتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں بجلی کی کھپت میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹرشری سیکٹر میں بجلی کے استعمال میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 483.3 ارب کلوواٹ آور تک پہنچ گیا۔ اس دوران بیٹری چارجنگ اور سویپنگ سروسز کے شعبے میں 37.6 ارب کلوواٹ آور بجلی استعمال ہوئی، جو 53.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا سروسز کے شعبے میں 22.9 ارب کلوواٹ آور بجلی استعمال کی گئی، جو 44 فیصد زیادہ ہے۔
صرف مارچ کے مہینے میں بجلی کی کھپت 859.5 ارب کلوواٹ آوررہی، جو سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد اضافہ ہے۔چین کی معیشت نے پہلی سہ ماہی میں 5 فیصد شرح سے ترقی کی جو بعض غیر ملکی اداروں کی توقعات سے زیادہ ہے اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے دوران چین کے استحکام بخش کردار کو مزید تقویت دیتی ہے۔








