یو اے ای کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں نمایاں ترقی،سرمایہ کاروں کا اعتماد مستحکم

متحدہ عرب امارات کے رئیل اسٹیٹ شعبے نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا مارکیٹ کے استحکام، لچک اور طویل مدتی منافع بخش صلاحیت پر بڑھتا ہوا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔

ابوظہبی۔20اپریل (اے پی پی):متحدہ عرب امارات کے رئیل اسٹیٹ شعبے نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا مارکیٹ کے استحکام، لچک اور طویل مدتی منافع بخش صلاحیت پر بڑھتا ہوا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ملک بھر میں جائیداد کے شعبے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ابوظہبی، دبئی، شارجہ اور عجمان کے سرکاری اعداد و شمار نے یو اے ای کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید مستحکم کیا۔

دبئی میں محکمہ اراضی کے مطابق 7 لاکھ 18 ہزار 160 جائیداد سے متعلق لین دین ریکارڈ کیے گئے، جن میں 60 ہزار 303 فروخت کے سودے شامل تھے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔ مجموعی لین دین کی مالیت 252 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے جبکہ سرمایہ کاری کی تعداد 57 ہزار 744 رہی، جو 7 فیصد اضافے کے ساتھ 173 ارب درہم کی مالیت تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کاروں کی تعداد بھی بڑھ کر 48 ہزار 448 ہو گئی، جس میں 29 ہزار 312 نئے سرمایہ کار شامل ہیں۔

ابوظہبی میں رئیل اسٹیٹ لین دین 160.7 فیصد اضافے کے ساتھ 66 ارب درہم تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 25.31 ارب درہم تھا۔ اس دوران 13 ہزار 518 سودے طے پائے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے اور یہ ابوظہبی کی سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر مضبوط حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔شارجہ میں جائیداد کے لین دین کا حجم 18.5 ارب درہم تک پہنچ گیا، جو 2025 کے اسی عرصے کے 13.2 ارب درہم کے مقابلے میں 40.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

لین دین کی مجموعی تعداد 29 ہزار 235 رہی، جو 18.9 فیصد اضافہ ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی قومیتوں کی تعداد بڑھ کر 113 ہو گئی۔شارجہ میں اماراتی شہریوں نے تقریباً 9 ارب درہم کی سرمایہ کاری 10 ہزار 99 جائیدادوں میں کی، جبکہ خلیجی، عرب اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 9.5 ارب درہم کی سرمایہ کاری 19 ہزار 136 جائیدادوں میں کی۔عجمان میں پہلی سہ ماہی کے دوران جائیداد کے لین دین کی مجموعی مالیت 6.22 ارب درہم رہی، جو 3 ہزار 890 سودوں کے ذریعے مکمل ہوئی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ تجارتی حجم 4.24 ارب درہم رہا۔

یو اے ای بھر میں رئیل اسٹیٹ شعبے کی یہ مضبوط کارکردگی مارکیٹ کی پائیداری اور بدلتے علاقائی حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، جو قیادت کے وژن اور متوازن اقتصادی پالیسیوں کے باعث ممکن ہوئی ہے۔