ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آم کی بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اینتھراکنوز، مینگو ہوپر (تیلا) اور تھرپس کے باعث مختلف علاقوں میں آم کی پیداوار متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
ڈی جی ایگریکلچر کا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آم کی بیماریوں اور کیڑوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر اظہار تشویش
حیدرآباد۔ 20 اپریل (اے پی پی):ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آم کی بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اینتھراکنوز، مینگو ہوپر (تیلا) اور تھرپس کے باعث مختلف علاقوں میں آم کی پیداوار متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر سندھ کی جانب سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر باغات کی جانب روانہ کی گئی ہیں تاکہ وہ موجودہ صورتحال کی نگرانی کریں اور کاشتکاروں کو موقع پر رہنمائی فراہم کریں۔ زرعی ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور فضا میں زیادہ نمی فنگس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے جبکہ باغات کی صفائی کا فقدان اور بارش کے بعد حفاظتی اقدامات میں تاخیر بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس حوالے سے کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ حصوں کو فوری طور پر ختم کریں اور اپنے باغات کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ بروقت تدارک ممکن بنایا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن نے کہا ہے کہ محکمہ کا فیلڈ عملہ ہر وقت کاشتکاروں کی رہنمائی کے لیے تیار ہے جبکہ کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بیماری ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر اپنے متعلقہ ایگریکلچر آفیسر سے رابطہ کریں۔









