چیچہ وطنی،محکمہ زراعت ساہیوال کے زیر اہتمام تل کی کاشت اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد

چیچہ وطنی،محکمہ زراعت ساہیوال کے زیر اہتمام تل کی کاشت اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد

چیچہ وطنی۔ 21 اپریل (اے پی پی):محکمہ زراعت ساہیوال کی جانب سے ہڑپہ میں تل کی کاشت اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پر اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے حوالے سے ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ورکشاپ امپورٹ سبسٹی ٹیوشن اور ایکسپورٹ کے فروغ کے لیے تل، سویابین اور کینولا کی ترویج کے تین سالہ منصوبہ کے تحت منعقد ہوئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر طاہر جاوید تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر محمد اسلم نے تل کی کاشت کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر بریفنگ دی، جس میں خصوصا اقسام کے انتخاب، آبپاشی کے اہم مراحل، کھادوں کے استعمال کا منصوبہ، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور پودوں کے تحفظ کے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ بہتر پیداوار کے لیے اہم انتظامی مراحل بھی تفصیل سے بیان کیے گئے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر جاوید نے اپنے خطاب میں اس منصوبے کی موجودہ وقت میں اہمیت کو اجاگر کیا اور تل کی برآمدات میں اضافے کے لیے اس پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اجلاس کو سوال و جواب اور مشاورت کے لیے کھول دیا۔ابتدائی طور پر بیج کمپنیوں کے نمائندگان اور ڈیلرز نے ساہیوال کے علاقے کے لیے تل کی بہترین اقسام پر روشنی ڈالی۔

کسانوں نے فصل میں فائیلوڈی اور چارکول راٹ جیسے مسائل کی نشاندہی کی، جن کے بارے میں ماہرین نے تفصیلی جوابات دیے۔تل کی فصل کے لیے زرعی مداخل (بیج، زرعی ادویات اور کھاد) کی دستیابی اور ان کے مثر استعمال پر بھی گفتگو کی گئی۔ مزید برآں بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں اور ان کے مثر تدارک کے طریقوں پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔ڈاکٹر محمد عمار نمائندہ چائنا سیسمی ایکسپورٹ کمپنی نے تل کے معیار، مارکیٹ قیمت اور چین کو برآمدات کے حوالے سے بریفنگ دی۔