ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان صباحت حسین نے کہاہے کہ کپاس کی بہتر پیداوارکے لیے کاشتکار زرعی ماہرین کی سفارشات پرعمل کریں،ان خیالات کااظہارانہوں نے کاشتکا روں کو منگل کے روز اپنے پیغام میں ہدایات دیتے ہوئے کیا۔
کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے کاشتکار زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں،باحت حسین

مزید خبریں
ملتان۔ 21 اپریل (اے پی پی):ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان صباحت حسین نے کہاہے کہ کپاس کی بہتر پیداوارکے لیے کاشتکار زرعی ماہرین کی سفارشات پرعمل کریں،ان خیالات کااظہارانہوں نے کاشتکا روں کو منگل کے روز اپنے پیغام میں ہدایات دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ کپاس کی پیداوارمیں بہتری کے لیے جدید زعی طریقوں اورسائنسی سفارشات پر عمل ناگزیر ہےاوروہ فصل کی بہتر نشوونما اور زیا دہ پیداوار کے حصول کے لیے ماہرین زراعت کی جاری کردہ سفارشات پرسختی سے عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسے کاشتکار جو ابھی کپاس کی بجائی کرنا چاہتے ہیں وہ زمین کی بہتر تیاری کے لیے لیزر لینڈ لیولر کا استعمال کریں، جس سے نہ صرف پانی بلکہ کھاد کی بھی بچت ممکن ہے۔
سخت زمین کی صورت میں چیزل پلو کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے تاکہ زمین کی تہیں کھل سکیں اور جڑیں گہرائی تک بہتر طور پر پھیل سکیں۔کپاس کی بوائی سے قبل جڑی بوٹیوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے پینڈی میتھالین 1200 ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کرنے یا بوائی کے فوراً بعد 24 گھنٹوں کے اندر ایس-میٹالاکلور 800 ملی لیٹر فی ایکڑ کے استعمال کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی نے کہا کہ کاشتکار ہمیشہ مستند اداروں سے حاصل کردہ منظور شدہ اقسام، خصوصاً ٹرپل جین اقسام کاشت کریں تاکہ بہتر پیداوار اور بیمار یوں کے خلاف مزاحمت حاصل کی جا سکے۔کھیلیوں میں کاشت کی صورت میں 90 فیصد اگاؤ پر4.5 کلوگرام، 75 فیصد پر 5 کلوگرام اور 60 فیصد اگاؤ کی صورت میں 6 کلوگرام فی ایکڑ بر اترا ہوا بیج استعمال کیا جائے۔ جبکہ ڈرل کے ذریعے کاشت کی صورت میں یہی مقدار بالترتیب 9، 10 اور 12 کلوگرام فی ایکڑ ہوگی۔
مزید برآں 10 فیصد اضافی بیج بطور احتیاط رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔فصل کو ابتدائی 40 دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج کو امیڈاکلوپرڈ اور ٹیبوکونازول (10 ملی لیٹر فی کلو بیج) کے ساتھ سیڈ ٹریٹمنٹ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی بوائی قطاروں میں شمالاً جنوباً کی جائے تاکہ تیز ہواؤں اور آندھیوں کے اثرات سے فصل کو تحفظ مل سکے، جبکہ پودے سے پودے کا فاصلہ 9 انچ رکھا جائے۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان نے ہدایت کی کہ کپاس کی کاشت ہمیشہ موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر کی جائے اور ایسے کھیتوں میں کاشت سے گریز کیا جائے جہاں پہلے سے بھنڈی یا بینگن کی فصل موجود ہو، تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔








