ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ گزشتہ رات صوبوں کی طرف سے ڈیمانڈ کی بدولت پیک ٹائم میں ڈیموں سے پانی کے ا خراج سے 4950میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی، بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے کل رات پیک میں ڈیمانڈ میں اضافے کی بدولت دو سے ڈھائی گھنٹے تک کی لوڈ منیجمنٹ کی۔
پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ صوبوں سے پانی کی طلب میں کمی ہے ، ترجمان پاور ڈویژن
اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ گزشتہ رات صوبوں کی طرف سے ڈیمانڈ کی بدولت پیک ٹائم میں ڈیموں سے پانی کے ا خراج سے 4950میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی، بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے کل رات پیک میں ڈیمانڈ میں اضافے کی بدولت دو سے ڈھائی گھنٹے تک کی لوڈ منیجمنٹ کی۔ بجلی کی صورتحال بارے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ پن بجلی کی کل استعداد 11500میگاواٹ ہے، پن بجلی اب بھی اپنی استعداد سے تقریباً 6000میگاواٹ کم پیدا ہورہی ہے جس کی بنیادی وجہ صوبوں سے پانی کی کم طلب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوب سے مرکز میں 400میگاواٹ گرڈ میں استحکام کی بدولت ترسیل جاری رہی، ملک کے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کے مطابق اکنامک لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی ۔ ترجمان کے مطابق اکنامک لوڈ منیجنٹ کا پیک ٹائم لوڈ منیجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایل این جی کی دستیابی سے پیک ٹائم لوڈ منیجمنٹ بھی ختم ہوجائے گی، ایل این جی کی عدم دستیاب کے بدولت 5500میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہورہی۔
انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں بچت کے اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ڈیمانڈ کو بہتر طریقے سے منتج کیا جائے، عالمی حالات اور پانی کی کم طلب کی بدولت رات کے اوقات میں شارٹ فال کا سامنا ہوتا ہے۔









