ڈریپ کا دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز پر عائد پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم

ڈریپ نے دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے 2108 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):ڈریپ نے دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے 2108 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ڈریپ نے ملک بھر میں ممنوعہ سرنجز کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے مارکیٹ سروے شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل ٹاسک فورس کو ملک گیر سروے، خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور رپورٹ مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں 2 ایم ایل اور 5 ایم ایل روایتی ڈسپوزیبل سرنجز پر پابندی بدستور برقرار ہےجبکہ 10 ایم ایل سرنجز کے ممکنہ غلط استعمال کے پیش نظر ان پر بھی پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ٹاسک فورس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سروے رپورٹ 27 اپریل تک ڈریپ کو جمع کرائے۔

مزید برآں، 31 جولائی 2021 سے روایتی ڈسپوزیبل سرنجز کی درآمد اور مقامی تیاری پر مکمل پابندی نافذ ہے اور میڈیکل ڈیوائسز بورڈ ان کی تمام رجسٹریشنز پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے۔ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ بازار میں غیر قانونی سرنجز کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ تمام صوبائی ڈرگ کنٹرول اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔