وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان امن، مذاکرات اور استحکام کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے
پاکستان امن، مذاکرات اور استحکام کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے، قومیں نوجوانوں کی محنت، وژن اور کردار سے بنتی ہیں،انجینئر امیر مقام
پشاور۔ 23 اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان امن، مذاکرات اور استحکام کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے، قومیں نوجوانوں کی محنت، وژن اور کردار سے بنتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں آپ سب کے درمیان موجود ہونا میرے لیے انتہائی باعثِ اعزاز ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک نمایاں اور قابلِ فخر ادارہ ہے جو معیاری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بااختیار بنانے، انہیں جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ایک عملی کوشش ہے۔ میں سب سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان کا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جو علم، تحقیق، ڈیجیٹل ترقی اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو۔ آج یہ لیپ ٹاپ پروگرام اسی وژن کا تسلسل ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں وفاقی حکومت کی سنجیدہ اور مسلسل کاوشوں کو بھی سراہتا ہوں جو مشکل حالات کے باوجود ملک کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی سمت لے جانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ نوجوانوں کی تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کےلیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع، خطے کے امن کےلیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کےلیے انتہائی اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ان کی باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی نے نہ صرف داخلی امن کو مضبوط کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مثبت اور ذمہ دار تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ آج پاکستان امن، مذاکرات اور استحکام کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی افواجِ پاکستان کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت ملک میں امن قائم ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔ میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی خدمات کو بھی سراہتا ہوں جنہوں نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ لیپ ٹاپ آپ کے ہاتھ میں صرف ایک آلہ نہیں بلکہ علم، تحقیق، تخلیق اور ترقی کی طاقت ہے۔ آپ نے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا بلکہ اسے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یاد رکھیں، قومیں وسائل سے نہیں بلکہ نوجوانوں کی محنت، وژن اور کردار سے بنتی ہیں۔ آپ کی کامیابی ہی پاکستان کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نوجوانوں کی ترقی، معیاری تعلیم کے فروغ اور ایک روشن مستقبل کےلیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان تشکیل دیں جو پرامن، خوشحال اور دنیا میں باوقار مقام رکھتا ہو۔قبل ازیں انسٹیٹیوٹ پہنچنے پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈائریکٹر آئی ایم سائنسز نے وفاقی وزیر کو ادارے کی تعلیمی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر نے انسٹیٹیوٹ کے لان میں پودا بھی لگایا۔ اس موقع پر مسلم لیگ(ن) پشاور کے عہدیداران بھی موجود تھے۔









