جنریشن زی میں ڈیجیٹل زندگی کے بڑھتے رجحان اور برانڈز کے جنون نے روایتی خاندانی معمولات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تعلقات، ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات اور گھریلو ہم آہنگی کمزور ہو رہی ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ماریہ سہیل قریشی نے ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی میں برانڈز کے ساتھ شدید وابستگی اور ٹیکنالوجی کے …
جنریشن زی میں ڈیجیٹل زندگی کے بڑھتے رجحان اور برانڈز کے جنون نے خاندانی معمولات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):جنریشن زی میں ڈیجیٹل زندگی کے بڑھتے رجحان اور برانڈز کے جنون نے روایتی خاندانی معمولات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تعلقات، ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات اور گھریلو ہم آہنگی کمزور ہو رہی ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ماریہ سہیل قریشی نے ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی میں برانڈز کے ساتھ شدید وابستگی اور ٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے جو ان کی اقدار، تعلقات اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان زیادہ تر وقت آن لائن سرگرمیوں، سوشل میڈیا سکرولنگ اور اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے خریداری میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے روایتی خاندانی میل جول پسِ پشت چلا گیا ہے۔ ڈاکٹر قریشی کے مطابق یہ تبدیلی صرف عادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاندانوں میں ایک ساتھ گزارا جانے والا وقت کم ، گفتگو مختصر اور سطحی ہوتی جا رہی ہے اور وہ جذباتی رشتے جو کبھی گھروں کو جوڑے رکھتے تھے کمزور پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت ذہنی صحت کو متاثر ، دبائو میں اضافے اور ہمدردی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرِ نفسیات نے والدین، اساتذہ اور معاشرے پر زور دیا کہ وہ اس رجحان کا بروقت تدارک کریں۔
انہوں نے کہا کہ آف لائن سرگرمیوں کو فروغ دینا، مشترکہ وقت گزارنے کے مواقع پیدا کرنا اور بالمشافہ تعلقات کی اہمیت سکھانا نہایت ضروری ہے تاکہ سکرین اور برانڈز کے بڑھتے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔ ایک اور معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رابعہ منیر نے کہا کہ جنریشن زی سہولت، تیزی اور کم قیمت کی وجہ سے آن لائن خریداری کو ترجیح دیتی ہے اور فوری ڈیلیوری اب ان کے لیے لازمی توقع بن چکی ہے، تاخیر یا زیادہ شپنگ اخراجات انہیں آسانی سے دور کر دیتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آن لائن خریداری پر یہ مسلسل توجہ روایتی خاندانی وقت کو متاثر کر رہی ہے جہاں کھانے، گفتگو اور مشترکہ سرگرمیاں سکرین ٹائم اور فوری خریداری کی نذر ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر منیر نے خبردار کیا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی سہولت فراہم کرتی ہے لیکن حد سے زیادہ آن لائن خریداری اور برانڈز کا جنون جذباتی تعلقات کو نقصان ، بامعنی گفتگو کو کم اور خاندانی یکجہتی کو کمزور کر سکتا ہے۔ ماہرین ڈاکٹر ماریہ سہیل قریشی اور ڈاکٹر رابعہ منیر نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو آف لائن سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور ٹیکنالوجی کے متوازن استعمال کی تربیت دیں کیونکہ توازن نہ ہونے کی صورت میں نوجوانوں کو بڑھتے دبائو، کم ہوتی ہمدردی اور خاندانی زندگی سے دوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








