پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے مالی قواعد کی خلاف ورزی اور سرکاری گرانٹس کے استعمال سے متعلق لازمی ریکارڈ جمع نہ کرانے پر پاکستان فیڈریشن بیس بال (پی ایف بی) اور پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) کے خزانچیوں پر ابتدائی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ 29 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے دو علیحدہ سرکاری احکامات کے مطابق، پی ایف بی کے خزانچی سید علی شاہ …
پاکستان سپورٹس بورڈ کی بیس بال اور نیٹ بال فیڈریشنز کے خزانچیوں پر مالی بے ضابطگیوں کے باعث پابندی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے مالی قواعد کی خلاف ورزی اور سرکاری گرانٹس کے استعمال سے متعلق لازمی ریکارڈ جمع نہ کرانے پر پاکستان فیڈریشن بیس بال (پی ایف بی) اور پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) کے خزانچیوں پر ابتدائی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ 29 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے دو علیحدہ سرکاری احکامات کے مطابق، پی ایف بی کے خزانچی سید علی شاہ اور پی این ایف کے خزانچی سہیل احمد کو قومی و بین الاقوامی سطح پر کسی بھی کھیل کی سرگرمی میں حصہ لینے، نمائندگی کرنے یا کسی بھی قسم کی وابستگی رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ پی ایس بی کے مطابق، پاکستان فیڈریشن بیس بال کو مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی گرانٹ دی گئی، تاہم متعدد یاد دہانیوں کے باوجود فیڈریشن نے اخراجات کی تفصیلات، اصل رسیدیں، وائوچرز، انوائسز اور بینک اسٹیٹمنٹس سمیت ایڈجسٹمنٹ اکاؤنٹس جمع نہیں کرائے۔ اسی طرح، پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو مالی سال 2022-23 میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے اور 2023-24 میں 3 کروڑ 30 لاکھ روپے موصول ہوئے، مگر ستمبر 2024 سے جاری متعدد ہدایات کے باوجود مطلوبہ مالی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ پی ایس بی نے بتایا کہ دونوں فیڈریشنز کو 22 اپریل 2026 کو حتمی نوٹس جاری کیے گئے تھے، جن میں سات دن کے اندر مکمل مالی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی اور عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی سے خبردار کیا گیا تھا تاہم مقررہ مدت میں کوئی بھی فیڈریشن تعمیل نہ کر سکی۔
پی ایس بی آئین 2022 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بورڈ نے واضح کیا کہ سرکاری فنڈز کے حصول کے ساتھ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس اور اصل مالی ریکارڈ کی فراہمی لازمی شرط ہے۔عائد پابندیوں کے تحت دونوں عہدیداروں کو پی ایس بی یا اس سے منسلک کسی بھی ادارے سے مالی معاونت، سہولیات یا منظوری حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے، جبکہ تمام محکموں، فیڈریشنز اور کھیلوں کی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔ تاہم، پی ایس بی نے دونوں فیڈریشنز کو آخری موقع دیتے ہوئے مزید سات دن میں مکمل مالی ریکارڈ جمع کرانے کی مہلت دی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں پابندیوں میں توسیع، دیگر عہدیداروں کے خلاف کارروائی، فیڈریشن کی معطلی اور قانونی کارروائی سمیت مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔بورڈ نے کہا کہ یکم جولائی 2022 سے 29 اپریل 2026 تک کے عرصے کے مکمل ایڈجسٹمنٹ اکاؤنٹس اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی صورت میں فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ دونوں عہدیدار متعلقہ قواعد کے تحت 30 دن کے اندر پی ایس بی ایڈجوڈیکیٹر کے سامنے اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔








