تھرپارکر میں مٹی کے برتنوں کی مانگ میں اضافہ

تھرپارکر میں مٹی کے برتنوں کی مانگ میں اضافہ

اسلام آباد۔3مئی (اے پی پی):ملک بھر کی طرح تھرپارکر میں درجہ حرارت اور گرمی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ٹھنڈک کرنے والی اشیاء کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، تھرپارکر ہاتھ سے بنے مٹی کے برتنوں پر انحصار کرتا ہے جنہیں مٹکیوں کے نام سے جانا جاتا ہے جو قدرتی ٹھنڈک اور موسمی ضرورت کا ایک بھروسہ مند ذریعہ ہیں، ان کی قیمتیں معمول پر رہتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ انہیں سخت گرمی میں ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقامی طور پر تیار کیے گئے مٹی کے برتن یعنی مٹکیاں تھرپارکر کی شدید گرمی میں ایک قدرتی تحفہ ہیں جس میں دن اور رات کے اوقات میں پانی کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو مقامی افراد کی ترجیح ہوتی ہیں۔ مٹکیوں کی تیز، گونج دار آواز سے ان کے معیار کو جا نچا جاتا ہے۔

مٹکیوں کے ایک فروخت کنندہ کے مطابق مٹی کے برتنوں کی قیمت سائز اور معیار کے لحاظ سے عموماً 200 روپے سے 300 روپے تک ہوتی ہے جبکہ زیادہ قیمت والے زیادہ پائیدار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہ 300 روپے کی کیٹیگری زیادہ تر خریداروں کو راغب کرتی ہے جو مضبوط، دیرپا برتنوں سے شدید گرمی میں بہتر ین ٹھنڈ ا پانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس موسم میں مٹی کے برتنوں کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ شدید گرمی زیادہ گھرانوں کو ٹھنڈے پانی کیلئے روایتی طریقوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ہاتھ سے بنی مٹکیاں روزمرہ کے استعمال کے لیے ایک عملی اور سستی سہولے فراہم کرتی ہیں۔ شہری علاقوں کے برعکس جہاں لوگ بجلی پر مبنی ٹھنڈک کے آلات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، تھرپارکر کی کمیونٹیز قدرتی راحت کے لیے مٹی کے برتنوں پر انحصار کرتی رہتی ہیں اور انہیں سخت گرمی کے مہینوں میں زندگی کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔

خواتین خریداروں نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنی ان مٹکیوں کی خوبصورتی ان کے رنگوں اور روایتی ڈیزائنوں میں پنہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف پانی کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھتی ہیں بلکہ سخت گرمی کے موسم میں اپنے گھروں میں ثقافتی دلکشی بھی لاتی ہیں۔ ایک اور خاتون نے کہا کہ مٹی کے برتنوں کا استعمال ہماری خاندانی روایت کا حصہ ہے، ہم نے انہیں بچپن سے دیکھا ہے اور اب بھی انہیں جدید آلات پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ قدرتی اور ورثے سے جڑی محسوس ہوتی ہیں۔

مرد خریدار وں نے بھی مٹی کے ان برتنوں کی افادیت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سادہ ہیں لیکن شدید گرمی میں کارآمد ہیں اور ہمارے لئے گرمی کے طویل دنوں میں ٹھنڈا رہنے کا ایک قابل اعتماد اور سستا ذریعہ ہیں۔مٹی کے برتن بنانے والے ایک کارکن نے کہا ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر ہاتھ سے مکمل کیا جاتا ہے ۔ ان کو روایتی بھٹوں میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین بھی اس ہنر میں برابر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موسم ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیونکہ زیادہ لوگ قدرتی ٹھنڈک کے لیے ان روایتی برتنوں کو ترجیح دیتے ہیں۔