چوبیس سال بعد دیا گیا انتظامی حکم کالعدم، حتمی لینڈ ریفارمز فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے،وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 کے تحت مجاز حکام کے حتمی فیصلوں کو دہائیوں بعد کسی انتظامی حکم کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 کے تحت مجاز حکام کے حتمی فیصلوں کو دہائیوں بعد کسی انتظامی حکم کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

عدالت نے 24 سال بعد جاری کیے گئے فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین کے 22 اگست 1996 کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانوناً حتمی ہو جانے والے فیصلوں کی بنیاد پر بحال شدہ اراضی سابق مالکان کو واپس نہیں دی جا سکتی۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سول اپیلیں منظور کرتے ہوئے فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین کا 22 اگست 1996 کا حکم، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا انتقال بھی کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے 25 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ 1972 میں ڈپٹی لینڈ کمشنر اور لینڈ کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلوں کو کبھی کسی اعلیٰ قانونی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے وہ حتمی حیثیت اختیار کر چکے تھے اور انہیں دوبارہ کھولنے یا تبدیل کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ 1977 میں فیڈرل لینڈ کمیشن کی کارروائی صرف اس امر تک محدود تھی کہ آیا مسماۃ حشمت حبیب الرحمٰن کے پاس کسی دوسرے ضلع میں مزید زرعی اراضی موجود تھی یا نہیں۔ اس کارروائی کا مقصد یا اثر 1972 کے حتمی ضبطی احکامات کو دوبارہ کھولنا یا کالعدم کرنا نہیں تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین نے 1996 میں یہ فرض کرتے ہوئے کہ مسماۃ حشمت حبیب الرحمٰن اور ان کے شوہر الگ الگ ڈیکلیرنٹ تھے، 1972 کے حتمی فیصلوں کے برعکس حکم جاری کیا، حالانکہ یہی مؤقف مجاز حکام 1972 میں مسترد کر چکے تھے اور اس فیصلے کو کبھی قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ اراضی کی ملکیت یا بے نامی (بینامی) ملکیت جیسے تنازعات کا فیصلہ انتظامی کارروائی کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص ایسے معاملات میں جو پہلے ہی قانون کے مطابق حتمی طور پر طے ہو چکے ہوں۔عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان 1971 سے متنازع اراضی پر بطور مزارع کاشت کر رہے تھے اور لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 کے تحت سرکاری مزارع ہونے کے ناطے انہیں اراضی کی الاٹمنٹ پر غور کیے جانے کا قانونی حق حاصل ہو چکا تھا، جسے بعد کی غیر قانونی انتظامی کارروائی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین نے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک ایسا معاملہ دوبارہ کھولا جو قانوناً حتمی ہو چکا تھا، اس لیے 22 اگست 1996 کا حکم قانونی اختیار سے تجاوز، لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 اور حتمی فیصلوں کے مسلمہ اصول کے منافی تھا، لہٰذا اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

مزید خبریں