دریاؤں کے کناروں پر آباد لوگوں کیلئے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے،ماہرین

دریاؤں کے کناروں پر آباد لوگوں کیلئے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے،ماہرین

پشاور۔ 03 مئی (اے پی پی):پاکستان میں دریاؤں میں پانی کی کمی کے باعث اگر ایک طرف جنگلات کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے تو دوسری طرف بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے شمالی پاکستان میں زندگی خطرات سے دوچار ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں کے لوگ ان خلاف ورزیوں سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ ضلع لوئر کوہستان کی وادی دبیر میں کبھی علی الصبح ہوا پتوں کی سرسراہٹ اور پتھریلی ڈھلوانوں پر چھلانگ لگاتے جنگلی بکروں کی دور سے آتی آوازیں لاتی تھی مگر گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد پانی کی غیر یقینی صورتحال نے منظر بدل دیا ہے۔

پٹن کوہستان کے چرواہوں کے زیرِ نگرانی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اپنی پیاس بجھانے دریائے سندھ پر آتے ہیں اور پھر وادی دبیر کے گھنے جنگلات میں گھری چراگاہوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ وادی دبیر کے رہائشی رحمان اللہ نے قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خاندان کی مالی ضروریات کا دارومدار بھیڑ بکریاں پالنے پر ہے۔کوہستان کے چرواہے اپنے مویشیوں کےلیے زیادہ تر دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ رحمان اللہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو بھیڑ بکریوں کی آبادی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دریا بہتا رہے گا تو ہمارا کاروبار خاص طور پر عید الاضحیٰ کی آمد پر بہتر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی کی صورت میں کوہستان کے ہزاروں مویشی پالنے والے، مچھیرے، لکڑی کے تاجر اور کسان متاثر ہوں گے۔ دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی غیر یقینی صورتحال اب محض ایک سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک انسانی اور ماحولیاتی مسئلہ بنتا جا رہے جو شمالی پاکستان کے جنگلات، باغات، لائیوسٹاک اور پہاڑی علاقوں کے لوگوں کےلیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ زیتون سے لے کر انجیر تک خطے کے 20 سے زائد عام درختوں کی اقسام کو اب بھارت کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث بقا کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے یہ مقامی درخت جو خوراک، سائے اور روزگار کے طور پر روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، دریاؤں کے مستقل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں اور فاشسٹ مودی حکومت کے غیر قانونی اقدام کی وجہ سے شدید خطرے میں ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سابق کنزرویٹر فارسٹ گلزار رحمان نے ‘اے پی پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی آتی ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ یہ مقامی درخت صرف پودے نہیں بلکہ ایک پورے نظام کا حصہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کی وادیوں کوہستان اور سوات میں آڑو اور سیب کے باغات پہاڑیوں پر پھیلے ہوئے ہیں جو خاندانوں کی کفالت اور مقامی معیشت کا ذریعہ ہیں۔

پاکستان سالانہ ہزاروں ٹن آڑو پیدا کرتا ہے جس کا زیادہ تر حصہ بہتر آب و ہوا اور مٹی کی زرخیزی کی وجہ سے شمالی اور وسطی خیبر پختونخوا سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن کوہستان، سوات اور آزاد کشمیر کے کسان اور باغبان بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں پر فکر مند ہیں اور عالمی بینک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور مودی کو اپنا یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے۔ سوات کے علاقے بریکوٹ کے ایک آڑو کے کاشتکار ملک صمد خان کہتے ہیں کہ اگر دریا کمزور ہوئے تو باغات بھی کمزور پڑ جائیں گے جس سے ماؤں میں غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی بڑھے گی اور جب باغات ختم ہوں گے تو ہماری آمدنی بھی ختم ہو جائے گی جس سے خیبر پختونخوا میں غربت اور بے روزگاری بڑھے گی۔

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ریجن، سابقہ فاٹا اور پنجاب کے پوٹھوہار ریجن کی پہاڑیوں پر پھیلے ہوئے لاکھوں جنگلی زیتون کے درخت بھی پانی کی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ درختوں کی یہ بڑی تعداد نہ صرف حیاتیاتی تنوع کی علامت ہے بلکہ خوردنی تیل اور دیہی روزگار کا ایک ابھرتا ہوا ذریعہ بھی ہے۔ بات صرف درختوں، پھلوں کے باغات اور مویشیوں کے غائب ہونے کے خدشات پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہندوتوا بھارتی حکومت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو قحط اور بھوک کے راج ہونے کا امکان ہے۔

معاہدے کی خلاف ورزیوں نے کشمیری مارخور کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے جو کبھی بالائی آزاد کشمیر میں گلیشیئرز کی ندیوں سے سیراب ہونے والی نباتات پر پروان چڑھتا تھا۔ ماہرینِ تحفظِ جنگلی حیات کو اب خدشہ ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے اس کی پناہ گاہیں سکڑ سکتی ہیں اور یہ نسل معدوم ہو سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف وائلڈ لائف ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق دریا کے پانی کے ہموار بہاؤ کے بغیر کوئی جنگلی حیات، شہد کی مکھیوں کا پالنا اور ماحولیاتی توازن ممکن نہیں ہے۔

پانی ہمالیائی حیاتیاتی تنوع کی شہ رگ ہے اور وہ جاندار جو فوڈ چین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اگر معاہدے کو طویل عرصے تک معطل رکھا گیا تو وہ شدید متاثر ہوں گے۔ آزاد کشمیر کا متنوع علاقہ نیم مرطوب جنگلات سے لے کر الپائن کے وسیع میدانوں تک برفانی چیتے، مارخور، ہمالیائی بھورے ریچھ اور کستوری ہرن جیسی اقسام کےلیے مددگار ہے جو سب میٹھے پانی کے ان نظاموں پر منحصر ہیں جو پودوں، زندگی اور افزائشِ نسل کے دورانیے کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمالیائی مونال اور چکور جیسے پرندے اور شکر عقاب کی پناہ گاہیں بھی خطے میں پانی کے ذرائع کم ہونے کی صورت میں سکڑ سکتی ہیں۔دریاؤں کے کناروں پر آباد لوگوں کےلیے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ وہ عالمی بینک سے بھارت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے کےلیے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔

پانی گندم اور چاول کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، مویشیوں کی ضرورت پوری کرتا ہے اور پاکستان میں کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کو سہارا دیتا ہے۔ بہاؤ میں کمی نہ صرف ماحولیاتی نظام کےلیے خطرہ ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع، زراعت اور ماحولیاتی توازن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ماحولیاتی ماہر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے خبردار کیا کہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتائج تمام جانداروں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دریا کے پانی میں کمی کا مطلب خشک سالی اور صحرا زدگی کا راج ہے اور خشک سالی کا مطلب بھوک، غربت اور بڑے پیمانے پر ہجرت ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی حدت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔پانی کے نظام پر اضافی دباؤ صحرا زدگی کو تیز کر سکتا ہے۔گلیشیئرز پگھلنے کے عمل کو بڑھا سکتا ہے اور پاکستان میں پہاڑی ماحولیاتی نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا یہ معاہدہ طویل عرصے سے تعاون کی ایک نایاب مثال کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

اب ماہرین نے ‘ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر جیسے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ماحولیاتی خطرات پر بھرپور توجہ دیں۔ڈاکٹر ممتاز ملک کہتے ہیں کہ یہ صرف سیاست کی بات نہیں ہے بلکہ یہ انسانی زندگی کی بقا کا معاملہ ہے۔ وادی دبیر کے مکینوں نے بتایا کہ دریائے سندھ ان کے خاندانوں کی کفالت کرتا ہے اور اسی کے پانی کی وجہ سے جاندار زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دریا میں پانی کم ہوا تو خیبر پختونخوا اور کشمیر کی وادیوں میں جانداروں کی آوازیں کسی کے وہم و گمان سے بھی پہلے خاموش ہو سکتی ہیں۔