سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے این ایچ اے کو 30 دن کے اندر این-45 منصوبے کی ٹینڈرنگ کا نیا عمل شروع کرنے اور مالی و تکنیکی جانچ کے لیے دو لفافوں پر مشتمل طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس پیرکویہاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس،این ایچ اے کو 30 دن کے اندر این-45 منصوبے کی ٹینڈرنگ کا نیا عمل شروع کرنے اور مالی و تکنیکی جانچ کیلئے دو لفافوں پر مشتمل طریقہ کار اپنانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے این ایچ اے کو 30 دن کے اندر این-45 منصوبے کی ٹینڈرنگ کا نیا عمل شروع کرنے اور مالی و تکنیکی جانچ کے لیے دو لفافوں پر مشتمل طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس پیرکویہاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سید وقار مہدی، کامل علی آغا، حاجی ہدایت اللہ خان اور روبینہ خالد نے شرکت کی۔ اجلاس میں این-45 منصوبے پر پیش رفت، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے لیے کوئلے کی خریداری اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے کمیٹی کو این-45 منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ تین حصوں پر مشتمل ہے،پہلے حصے چکدرہ تا تیمرگرہ (38 کلومیٹر) کے پی سی ون کو پلاننگ ڈویژن میں جمع کرا دیا گیا ہے، منصوبے کا دوسرا حصہ اخگرام تا دیر (43.39 کلومیٹر) پر مشتمل ہے،تیسرے حصے کالاتک تا چترال (47.98 کلومیٹر) کی لاگت 93.779 ملین ڈالر ہے۔
6 اگست 2024ء کومیسرز سامبو انجینئرنگ کی ایک ہی بولی موصول ہوئی جو 31 جنوری 2025ء کو کھولی گئی اور انجینئر کے تخمینے سے 224.24 فیصد زیادہ نکلی،اس مہنگے منصوبے سے بچنے کے لیے 15 دسمبر 2025ء کو دوبارہ ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا گیا جس میں تین کمپنیوں نے تجاویز جمع کرائی ہیں اور اس معاملے پر جنوبی کوریا کے حکام سے بات چیت جاری ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ منصوبہ کوریاکے قرضہ کے تحت ہے جس کے مطابق قرض دینے والا ملک تفصیلی جانچ پڑتال کا تقاضا کرتا ہے اور عموماً اپنے ٹھیکیداروں کے ذریعے منصوبہ مکمل کروانے کو ترجیح دیتا ہے تاہم پاکستانی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کی اجازت کے لیے کوریائی حکام سے مذاکرات جاری ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ کمیٹی نے پہلے بھی ہدایت دی تھی کہ اقتصادی امور ڈویژن تمام ٹینڈر دستاویزات کی نقول اپنے پاس محفوظ رکھے۔ کمیٹی نے مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث این-45 منصوبے کی ٹینڈرنگ کے حوالے سے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ 30 دن کے اندر نیا عمل شروع کیا جائے اور مالی و تکنیکی جانچ کے لیے دو لفافوں پر مشتمل طریقہ کار اپنایا جائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سڑک کے پہلے حصے خصوصاً تیمرگرہ اور چکدرہ میں کام شروع نہیں ہوا جبکہ این ایچ اے دور دراز حصوں پر کام کر رہی ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ تیمرگرہ اور چکدرہ کی سڑک چار اضلاع کو ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم وہاں موجود سرنگ خستہ حال ہے اور فوری تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ حکام نے بتایا کہ منصوبہ ابتدائی طور پر چکدرہ تا تیمرگرہ حصے پر مشتمل ہے اور اس کا پی سی-ون تیار ہو چکا ہے چونکہ منصوبہ غیر ملکی مالی معاونت سے آگے بڑھاجارہا ہے، اس لیے صرف خریداری کا عمل تقریباً 350 دن لیتا ہے۔ کمیٹی نے اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ۔کمیٹی نے تمام غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں، ان کے بجٹ اور تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ چیئرمین این ایچ اے نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں این-55 شاہراہ بلوچستان کے لیے ایک اہم رابطہ ہے جبکہ پشاور ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے ٹرنچ-III منصوبوں کے لیے کمیٹی کی حمایت کو سراہا۔ این ایچ اے نے پشاور ناردرن بائی پاس (30.2 کلومیٹر) منصوبے پر بھی بریفنگ دی، صوبائی محکمہ آبپاشی نے قدرتی آبی گزرگاہوں کی ممکنہ متاثر ہونے پر خدشات ظاہر کیے جس پر این ایچ اے حکام نے بتایا کہ تعمیراتی کام جاری ہے جس میں ورسک تک رسائی سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک سینئر افسر تعینات کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔اجلاس میں جامشورو کولفائرڈپاورپلانٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کی پیداواری صلاحیت 660 میگاواٹ ہے، منصوبہ دو حصوں (لاٹ-I اور لاٹ-II) پر مشتمل ہے جن میں سے لاٹ-I درآمدی کوئلے پر چل رہا ہے جبکہ لاٹ-II کاربن اخراج سے متعلق پابندیوں کے باعث شروع نہیں ہو سکا۔ ۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ان پلانٹس کو ماحول دوست ایندھن پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔کمیٹی نے پاور ڈویژن کو کوئلہ فراہم کرنے والوں کے ٹینڈرنگ عمل کی مکمل تفصیلات اور چار جینکو (سابقہ واپڈا) پاور پلانٹس کی نیلامی کا ریکارڈ دو دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی۔








