معرکۂ حق: صبروتحمل، ہمہ جہت حکمت اور قوت کاحسین امتزاج
معرکۂ حق: صبروتحمل، ہمہ جہت حکمت اور قوت کاحسین امتزاج

مزید خبریں
تحریر: ناصرعباس
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):جنوبی ایشیا کا خطہ تاریخی طور پر سیاسی کشیدگی، جغرافیائی حساسیت اور طاقت کے پیچیدہ توازن کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ریاستوں کے درمیان تعلقات محض سفارتی بیانات یا وقتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد گہرے تاریخی تجربات، نظریاتی اختلافات اور اسٹریٹجک مفادات پر استوار ہے ۔
ایسے ماحول میں جب کوئی بحران جنم لیتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف فوری نوعیت کے ہوتے ہیں بلکہ طویل المدتی سطح پر بھی خطے کی سمت متعین کرتے ہیں۔ “معرکۂ حق” کےحالیہ تناظر میں ، پاکستان کی حکمت عملی ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں صبر، تحمل اور قوت کے درمیان ایک نہایت نازک مگر مؤثر توازن قائم رکھا گیا۔
عسکری ماہرین کے مطابق یہ معرکہ صرف عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ ایک وسیع تر فکری، اخلاقی اور سفارتی حکمت عملی کا عکاس بھی تھا۔
پاکستان کو ایک ایسے ماحول کا سامنا تھا جہاں ایک طرف سرحدی کشیدگی عروج پر تھی اور دوسری طرف داخلی سطح پر عوامی جذبات میں شدت پیدا ہو رہی تھی۔ ایسے حالات میں فوری ردعمل دینا بظاہر ایک آسان اور مقبول راستہ محسوس ہوتا ہے، مگر ریاستی دانش کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذباتی دباؤ کے تحت فیصلے کرتی ہے یا اصولوں اور حکمت کے مطابق۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس موقع پر جس راستے کا انتخاب کیا وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے فوری اشتعال انگیزی کے بجائے “اسٹریٹجک صبر” کا مظاہرہ کیا۔ اس صبر کو کمزوری نہیں بلکہ ایک فعال اور سوچا سمجھا فیصلہ سمجھنا چاہیے۔
اسٹریٹجک صبر کا مطلب یہ ہے کہ ریاست حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے، عالمی ردعمل کو مدنظر رکھے، اور اپنے اقدامات کو مرحلہ وار اور متوازن انداز میں ترتیب دے۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے پاکستان کو نہ صرف فوری بحران سے نمٹنے میں مدد دی بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار کردار کے طور پر بھی پیش کیا۔اس تناظر میں “بنیان مرصوص” کا تصور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اسلامی تعلیمات میں “بنیان مرصوص” ایک ایسی مضبوط اور متحد قوت کی علامت ہے جو نظم و ضبط، اتحاد اور مقصد کے ساتھ کھڑی ہو۔ قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت 4 میں جس انداز سے اس تصور کو بیان کیا گیا ہے وہ نہ صرف عسکری تنظیم بلکہ اخلاقی استقامت اور اجتماعی ہم آہنگی کی بھی علامت ہے۔ یہی تصور پاکستان کی حالیہ حکمت عملی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
“بنیان مرصوص” کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں یہ بات واضح تھی کہ طاقت کا استعمال محض ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ جدید جنگی ماحول میں جہاں ایک معمولی غلطی بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہے وہاں متناسب اور محتاط ردعمل نہایت اہم ہوتا ہے۔
پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کے اقدامات نہ صرف مؤثر ہوں بلکہ غیر ضروری جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق یہاں ایک اور اہم پہلو سفارت کاری کا ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بیانیے، میڈیا اور عالمی رائے عامہ تک پھیل چکی ہے۔
پاکستان نے اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر بھی بھرپور سرگرمی دکھائی۔ عالمی برادری سے رابطہ، صورت حال کی وضاحت، اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات۔۔یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے ایک جامع اور ہمہ جہت حکمت عملی اپنائی۔
اس حکمت عملی کا ایک اہم نتیجہ اخلاقی برتری کی صورت میں سامنے آیا۔ جب کوئی ریاست اپنے اقدامات کو اصولوں اور اخلاقیات کے تابع رکھتی ہے تو اسے عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ وہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے جو طاقت کے استعمال میں احتیاط اور توازن کو ترجیح دیتی ہے۔
داخلی سطح پر بھی اس حکمت عملی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا اور قومی یکجہتی کو تقویت ملی۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ریاست نہ صرف طاقت رکھتی ہے بلکہ اسے دانشمندی کے ساتھ استعمال بھی کرتی ہے، تو ان کا اعتماد مزید مستحکم ہوتا ہے۔
یہ اعتماد کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے، جو اسے ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے حالات میں چیلنجز کی کمی نہیں ہوتی۔
غلط معلومات کا پھیلاؤ، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا، اور فوری ردعمل کی عوامی توقعات۔۔یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی حکمت عملی کو متاثر کر سکتے ہیں مگر پاکستان کی کامیابی اسی میں تھی کہ اس نے ان تمام دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھا اور ایک واضح سمت میں آگے بڑھتا رہا۔
“معرکۂ حق” نے ایک اہم سبق دیا ہے کہ حقیقی قوت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ فیصلوں کی حکمت میں ہوتی ہے۔ ایک ریاست اس وقت مضبوط سمجھی جاتی ہے جب وہ جانتی ہو کہ کب صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے، کب بات چیت کو ترجیح دینی ہے، اور کب طاقت کا استعمال ضروری ہے۔ یہ توازن ہی دراصل کامیاب ریاستی حکمت عملی کی بنیاد ہوتا ہے۔
“بنیان مرصوص” کے تصور کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک قومی فلسفہ بھی بن سکتا ہے۔ یہ ہمیں اتحاد، نظم و ضبط، اور مشترکہ مقصد کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ حکمت عملی اس بات کی ایک عملی مثال ہے کہ کس طرح ایک ریاست توازن اور ہمہ جہت حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔
بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ “معرکۂ حق” اور “بنیان مرصوص” کا تصور ہمیں یہ اہم پیغام دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف فتح میں نہیں بلکہ اس طریقۂ کار میں ہے جس کے ذریعے وہ حاصل کی جائے۔
اگر صبر، حکمت اور قوت کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف تنازعات کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے بلکہ ایک پائیدار اور منصفانہ امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔پاکستان نے اس موقع پر جو طرزِ عمل اختیار کیا وہ نہ صرف اس کی عسکری صلاحیت کا مظہر ہے بلکہ اس کی سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت اور اخلاقی وابستگی کا بھی ثبوت ہے۔
یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ریاست کو حقیقی معنوں میں مضبوط بناتے ہیں۔ “بنیان مرصوص” صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔۔ایک ایسا نظریہ جو ہمیں اتحاد، استقامت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف کامیابی بلکہ عزت اور وقار کی طرف بھی لے جاتا ہے








