کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، معرکہ حق میں ہماری افواج نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، مقررین کا ویبینار سے خطاب
“معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اسٹریٹجک ماہرین کا قومی ویبینار میں مسلح افواج اور قومی عزم کو خراجِ تحسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):سنٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز (COPAIR) نے کامیابی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی قومی ویبینار بعنوان “Voices of Valor: Honoring the Milestone of Marka-e-Haq” کا انعقاد کیا۔ اس ویبینار کا مقصد معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کی یاد منانا اور پاکستان کی اسٹریٹجک مزاحمت، قومی یکجہتی اور مستقبل کی سمت پر جامع مکالمہ تھا۔

اس موقع پر عسکری، سفارتی، تعلیمی اور میڈیا حلقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔ افتتاحی کلمات میں COPAIR کی صدر، آمنہ منور اعوان نے مہمانوں، سابق افسرانِ مسلح افواج، سفیروں، ماہرینِ تعلیم، نوجوانوں اور میڈیا نمائندگان کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے COPAIR کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ قومی و بین الاقوامی امور پر بامقصد اور فکری مکالمے کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔



انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معرکۂ حق پاکستانی قوم اور اداروں کی اجتماعی طاقت، اتحاد اور استقامت کی علامت ہے۔ مزید برآں، انہوں نے نوجوانوں کی شمولیت، صلاحیت سازی اور علمی مباحث کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ COPAIR اسٹریٹجک آگاہی اور پالیسی تحقیق کے فروغ میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔ یہ ویبینار قومی سلامتی کے بدلتے ہوئے تقاضوں، ہائبرڈ وارفیئر، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بحری حکمتِ عملی اور کثیر القطبی عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کا جامع جائزہ لینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا۔



اپنے کلیدی خطاب میں مہمانِ خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید نے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے علاقائی روابط، اسٹریٹجک خودمختاری اور فعال سفارتکاری کو ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں کامیابی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ سکیورٹی کے تناظر میں میجر جنرل سمرز سالک نے جنگ کی بدلتی نوعیت پر روشنی ڈالی، خصوصاً ہائبرڈ خطرات جیسے سائبر جنگ، معلوماتی مہمات اور نفسیاتی پہلوؤں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔



انہوں نے ادارہ جاتی تیاری، نظریاتی جدت اور سول-ملٹری ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایئر وائس مارشل فرحت حسین نے دفاعی ٹیکنالوجیز میں ترقی پر گفتگو کرتے ہوئے فضائی جنگ میں مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور جدید صلاحیتوں کے کردار کو بیان کیا اور کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں تکنیکی برتری فیصلہ کن ہوگی۔ بحری حکمتِ عملی کے حوالے سے ایئر وائس مارشل احمد سعید نے پاکستان کے بحری شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بلیو اکانومی کو پائیدار اقتصادی ترقی، علاقائی روابط اور اسٹریٹجک گہرائی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

سفارتی نقطۂ نظر سے سفیر مسعود خالد نے متوازن اور مستقبل بین خارجہ پالیسی کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی سطح پر تعمیری روابط اور اقتصادی سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تعلیمی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ریاض شاد نے تحقیق، تنقیدی سوچ اور علمی پیداوار کو مضبوط اسٹریٹجک سوچ اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ویبینار کے دوران مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معرکۂ حق صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری، انصاف، استقامت اور قومی اتحاد کی علامت ہے۔
مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عسکری طاقت، سفارتی حکمتِ عملی، اقتصادی ترقی اور تکنیکی جدت کو یکجا کر کے قومی طاقت کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ خصوصی طور پر دفاعی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ہائبرڈ و خلائی جنگ، معلوماتی تحفظ، نوجوانوں کی شمولیت اور صلاحیت سازی جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، تاکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے نئی نسل کو تیار کیا جا سکے۔
اختتامی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر ناہید گورایہ نے معرکۂ حق کی اہمیت کو اسٹریٹجک بصیرت اور قومی استقامت کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے تمام مقررین کے خیالات کو سراہتے ہوئے ان کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی، باخبر مکالمے اور مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے COPAIR اور اس کی قیادت کو ایک بروقت اور بامعنی اقدام کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ ویبینار کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ حاصل شدہ اسٹریٹجک بصیرت کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ پاکستان کی سلامتی، اقتصادی استحکام اور عالمی مقام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔








