ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کا اجلاس
ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کا اجلاس ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ انہوں نے پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسے ایک "ہنگامی، حساس اور مربوط قومی حکمت عملی کا متقاضی مسئلہ” قرار دیا۔وزارت صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تاہم صرف 84 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہیں جو تشخیص میں بڑے فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ سال 2025 کے دوران 14 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
اگرچہ سکریننگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ٹیسٹوں کی تعداد 2020 میں 37 ہزار سے بڑھ کر 2025 میں 3 لاکھ 74 ہزار سے زائد ہو گئی ہے تاہم اراکین نے واضح کیا کہ صرف زیادہ تشخیص کو کنٹرول نہیں سمجھا جا سکتا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ رجسٹرڈ 84 ہزار مریضوں میں سے تقریباً 20 ہزار ایسے ہیں جو علاج شروع کرنے کے بعد لاپتہ ہو گئے ہیں جس سے فالو اپ، کونسلنگ اور مریضوں کی مستقل دیکھ بھال کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ وزارت نے اس خلا ء کو دور کرنے کے لئے ایک جامع ماسٹر پلان کی تیاری سے آگاہ کیا۔کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کی شرح 0.2 فیصد ہے جو عالمی اوسط 0.5 فیصد سے کم ہے تاہم تونسہ، کوٹ مومن اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں سامنے آنے والے مقامی پھیلاؤ انفیکشن کنٹرول، غیر محفوظ طبی طریقوں اور کمزور نگرانی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ کراچی کے والیکا علاقے میں پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ 10 سی سی سرنجوں کا استعمال تھا جن پر پہلے پابندی نہیں تھی،اب تمام قابلِ استعمال سرنجوں بشمول 10 سی سی کو مرحلہ وار ختم کر کے سخت ضابطہ کار کے تحت لایا جائے گا۔اراکین نے 2021 سے پابندی کے باوجود مارکیٹ میں ممنوعہ سرنجوں کی دستیابی، بلڈ بینکس اور خون کی منتقلی کے کیمپس کی کمزور نگرانی، عوامی آگاہی مہمات کے فقدان، معاشرتی (اسٹیگما)کے باعث ٹیسٹنگ اور علاج سے گریز، اور تشخیص کے بعد مریضوں کے نظام سے نکل جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی نے سرحد پار صحت کے خطرات پر بھی توجہ دی اور نشاندہی کی کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے افراد کی مؤثر سکریننگ کا نظام موجود نہیں۔
وزارت نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک نیا نظام تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت داخلہ و اخراج کے ڈیٹا کو مربوط کر کے سکریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔وزارت نے مؤقف اختیار کیا کہ سکریننگ میں اضافہ پروگرام کی پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے تاہم کمیٹی نے زور دیا کہ "اصل کامیابی نئے انفیکشنز میں کمی ہے نہ کہ صرف ان کی نشاندہی۔ اراکین نے کہا کہ مسلسل آگاہی مہمات کی کمی غلط فہمیوں کو جنم دے رہی ہے اور بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔وزیر صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلی بار حکومت نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے اور غلط معلومات کے تدارک کے لئے پریس بریفنگز بھی دی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے فوری طور پر آٹو ڈس ایبل سرنجوں (بشمول 10 سی سی)کے نفاذ، غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف سخت کارروائی، ملک گیر آگاہی مہمات، ضلعی سطح پر تفصیلی ڈیٹا کی فراہمی، اور ایک واضح، مقررہ مدت پر مبنی قومی حکمت عملی کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں ایم این ایز زہرہ ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، ڈاکٹر شائستہ خان، ڈاکٹر نکہت شکیل خان، عالیہ کامران، ڈاکٹر درشن، سبین غوری، چوہدری محمد شہباز بابر اور فرخ خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر صحت، وزارتِ قومی صحت خدمات کے سینئر حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔








