ہیٹی میں مسلح تشدد میں خطرناک اضافہ، ہزاروں افراد بے گھر، اقوام متحدہ رپورٹ

ہیٹی میں مسلح تشدد میں خطرناک اضافہ، ہزاروں افراد بے گھر، اقوام متحدہ رپورٹ

اقوام متحد ہ۔14مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں مسلح تشدد میں خطرناک اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شنہوا کے ممطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق اتوار سے سیتے سولے کے علاقے میں جاری پرتشدد جھڑپوں کے باعث 5 ہزار 300 سے زائد افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بے گھر ہونے والوں میں سے نصف سے زائد افراد نے عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لے لی جبکہ دیگر متاثرین پہلے ہی دباؤ کا شکار مقامی آبادی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔او سی ایچ اے نے بتایا کہ تشدد کے باعث شہریوں کی ہنگامی طبی سہولیات تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کو پیر کے روز سیتے سولے اسپتال سے اپنا عملہ نکالنا اور سرگرمیاں معطل کرنا پڑیں، جہاں صرف 12 گھنٹوں میں 40 سے زائد گولیوں سے زخمی افراد کا علاج کیا گیا جبکہ 800 سے زیادہ افراد نے اسپتال میں پناہ لی۔

ادارے کے مطابق یہی علاقے مارچ اور اپریل میں بھی مسلح تشدد کی لپیٹ میں رہے تھے، جس کے نتیجے میں تقریباً 8 ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے خبردار کیا کہ ایک بار تشدد بھڑک اٹھے تو صورتحال پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں کو شدید عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے درجنوں افراد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ علاقے میں شدید مسلح سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ ہلاکتوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔