ستو گرمی کی شدت کو کم کرنے اور انسانی جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے،حکیم حارث نسیم سودہروی

گرمیوں کا مشروب ستو گرمی کی شدت کو کم کرنے اور انسانی جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ حکیم حارث نسیم سودہروی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طب یونان کے مطابق ستو کا شربت طبی افادیت کا حامل ہے

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):گرمیوں کا مشروب ستو گرمی کی شدت کو کم کرنے اور انسانی جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ حکیم حارث نسیم سودہروی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طب یونان کے مطابق ستو کا شربت طبی افادیت کا حامل ہے جو گرمی کی شدت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم سے غلاظتوں کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے یہ نہ صرف پیشاب آور ہوتا ہے بلکہ پیشاب کی رکاوٹ کو دور اور جلن کو بھی ختم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستو کا شربت طبیعت کو فرحت بخشتا ہے ہاتھ اور پائوں کی جلن ختم کرتا ہے، گرمی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور پیاس بجھانے سمیت جسم میں پانی کی کمی بھی نہیں ہونے دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستو کا مشروب لو لگنے کے مرض سے محفوظ رکھتا ہے جو آنتوں کےلئے انتہائی مفید ہے جبکہ یہ وزن کم کرنے اور ہاضمہ کی درستگی کےلئے بھی مفید ہے۔ ستو ذیابیطس کو کنٹرول کرنے اور کولیسٹرول کو کم کرنے کے علاوہ امراض جگر میں بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق کے مطابق ستو میں فائبر ، میگینز، سیلیم ، کاپر، وٹامن بی ون، کرومیم، میگنیشیئم اور فاسفورس پایا جاتا ہے۔ حکیم حارث نسیم سودہروی نے کہا کہ ستو میں تقریبا65 فیصد کاربو ہائیڈریٹ موجود ہوتا ہے اور اگر ورزش سے پہلے ستو کا شربت پیا جائے تو انسانی جسم کو درکار توانائی فوری طور پر دستیاب ہوتی ہے۔ مزید برآں ستو طویل مدت تک پائیدار توانائی فراہم کرنے والی غذا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستو قدرت کا ایک عظیم تحفظ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ستو مریض کے دل سے بوجھ اتارتا ہے اور غم اور فکر سے بھی نجات دلاتا ہے