ماہرین صحت نے موسم گرما کے دوران پیٹ کی بیماریوں کے کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث عوام کو غیر صحت بخش اور غلط طریقے سے محفوظ شدہ خوراک کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودہ خوراک اور پانی ہیپاٹائٹس اے اور ای کے انفیکشن کا بڑا ذریعہ ہیں جو خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔
گرمی سے پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ، غیر صحت بخش خوراک سے پرہیز کیا جائے ، ماہرین صحت
اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):ماہرین صحت نے موسم گرما کے دوران پیٹ کی بیماریوں کے کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث عوام کو غیر صحت بخش اور غلط طریقے سے محفوظ شدہ خوراک کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودہ خوراک اور پانی ہیپاٹائٹس اے اور ای کے انفیکشن کا بڑا ذریعہ ہیں جو خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔ اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض معدہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے گرمیوں کے موسم میں غیر صحت بخش کھانے کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات پر روشنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک ذخیرہ کیے گئے منجمد کھانے کے استعمال سے گریز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے کھانے کی غلط ہینڈلنگ سے عوام میں پیدا ہونے والے انفیکشن اور پیٹ سے متعلق بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلودہ خوراک اور غیر محفوظ پانی گرمیوں کے دوران ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حاملہ خواتین کو خاص طور پر شدید پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے عوام پر زور دیا کہ باسی، نامناسب طریقے سے ذخیرہ شدہ اور غیر صحت بخش کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں اور خاص طور پر ایسی چیزیں جو غیر محفوظ یا خراب ماحول میں فروخت ہوتی ہیں ان کو کھانے سے احتیاط کریں۔ انہوں نے پینے کے صاف پانی اور تازہ پکے ہوئے کھانوں کے استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ پانی کی کمی اور اسہال کی بیماری کی صورت میں او آر ایس اور زنک سپلیمنٹس کے استعمال کی بھی سفارش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ گرمی کے مہینوں میں پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے مناسب ہائیڈریشن اور متوازن غذائیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ خود ادویات استعمال کرنے کی بجائے بروقت طبی مشورہ لیں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات کا استعمال کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ گرمی کے موسم میں ہیپاٹائٹس اے اور ای کے انفیکشن اور خوراک سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے نمٹنے کے لیے جلد تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے۔ انہوں نے عوام کو گرمیوں کے موسم میں حفظان صحت کے سخت اقدامات اپنانے کا مشورہ دیا جن میں باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، محفوظ درجہ حرارت پر کھانے کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنا اور غیر صحت بخش حالات میں تیار کیے گئے سٹریٹ فوڈ سے پرہیز کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گھریلو سطح پر احتیاطی تدابیر ہیپاٹائٹس اے اور ای کے ساتھ ساتھ آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے والدین اور سکول انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کینٹینوں میں صفائی کے مناسب معیار کو برقرار رکھا جائے اور بچوں کو تازہ تیار شدہ کھانا پیش کیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ فوڈ سیفٹی میں لاپرواہی صحت کے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے گرمی سے متعلق معدے اور جگر کی بیماریوں کے بڑھتے دبائو کو کم کرنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔









