وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ افراد، ماہرین ، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو انکے پیشہ ورانہ عزم پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے حکومت ملک میں فائیو جی کے مکمل تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی کی تکمیل اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے
حکومت ملک میں فائیو جی کے مکمل تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی کی تکمیل اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کیلئے پرعزم ہے،وزیراعظم شہبازشریف
اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ افراد، ماہرین ، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو انکے پیشہ ورانہ عزم پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے حکومت ملک میں فائیو جی کے مکمل تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی کی تکمیل اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، ٹیلی کمیونیکیشن ہماری معیشت کا نہایت اہم اور فعال شعبہ ہے، پاکستان کا ڈیجیٹل شعبہ اور انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، آئی ٹی کی سالانہ برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، پاکستان موثر اقدامات کے ذریعےایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن و انفارمیشن سوسائٹی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو آج اتوار کو منایا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ پر وہ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام افراد، ماہرین ، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو انکے پیشہ ورانہ عزم پرخراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اس دن کا موضوع ’’ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ‘‘ ہے۔ یہ عنوان ہمارے قومی وژن ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ سے مکمل ہم آہنگ ہے۔یہ وژن تین بنیادی ستون ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل معاشرہ اور ڈیجیٹل حکومت پر مشتمل ہے۔ جسکے تحت نہایت موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 ایک انقلابی اقدام ہے جو پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کی ضامن ہے۔حالیہ فائیو جی اسپیکٹرم کی کامیاب اور شفاف نیلامی بلا شبہ "ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کی جانب اہم سنگِ میل ہے۔ جس سے ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں بیش قدر مدد حاصل ہوئی ہے۔ جی ایس ایم اے نے اسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ قرار دیا۔ اب سیلولر موبائل آپریٹرز کے لئے مختص اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 754 میگا ہرٹز ہو گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ملک میں فائیو جی کے مکمل تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی کی تکمیل اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ہماری معیشت کا بھی نہایت اہم اور فعال شعبہ ہے جس میں تواتر سے بیرونی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقعوں اور سالانہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے، جو باعث تقویت و اطمینان ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ملکی تکنیکی آلات و وسائل کے اثاثوں میں 234,000 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، جدید 6 سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ یہ تمام سہولیات ملک کے 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ مزید براں اپنی مضبوط سب میرین اور زمینی فائبر استعداد کے باعث پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ” کاریک” ڈیجیٹل کوریڈور کی ترقی میں سرگرم عمل ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مسابقت کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایم وی این او فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ جس سے فائبرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ سیٹلائٹ قواعد و ضوابط اور فکسڈ سیٹلائٹ سروسز لائسنسنگ پر بھی پیش رفت جاری ہے تاکہ دور دراز علاقوں تک رابطہ بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے پسماندہ علاقوں، قومی شاہراہوں اور سیاحتی مقامات پر تیز رفتار براڈبینڈ سہولیات کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، آئی ٹی کی سالانہ برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ ترقی حکومتی فعال پالیسیز، ڈیجیٹل اسکلز، انسپائر (سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پروگرام) جیسے مہارت افزا اقدامات اور نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے مضبوط نظام کی مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور معاون انفراسٹرکچر، نوجوان اور ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کے ذریعے پاکستان اس صنعت میں ایک عالمی آئی ٹی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کررہا ہے۔ پاکستان نے آئی ٹی یو / ہو این کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ’’رول ماڈل‘‘ حیثیت حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے 2024 ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس اور 2026 کے گلوبل آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں حالیہ نمایاں بہتری نہایت خوش آئند ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موثر اقدامات کے ذریعےایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام ادارے اور افراد کی محنت اور کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر بھر پور عزم ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال پاکستان کے خواب کوجلد شرمندہ تعبیر کریں۔









