سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ اقدامات پاکستان کے اصولی مؤقف کی قانونی اور سفارتی توثیق ہیں، سینیٹر شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ اقدامات اور پیش رفت پاکستان کے اصولی مؤقف کی ایک اہم قانونی اور سفارتی توثیق ہیں۔

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ اقدامات اور پیش رفت پاکستان کے اصولی مؤقف کی ایک اہم قانونی اور سفارتی توثیق ہیں۔اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت سے وابستہ کارروائیوں اور مشاہدات، خصوصاً Permanent Court of Arbitration کے کردار نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ انحراف عالمی قانونی اصولوں کے تحت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نےہمیشہ قانون، سفارت کاری اور تحمل پر مبنی راستہ اختیار کیاجبکہ بھارت کے طرزِ عمل پر بین الاقوامی فورمز میں سوالات اٹھے ہیں۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا تکنیکی معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام اور ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل کی بنیاد بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدوں کو سیاسی دباؤ یا دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں ریاستوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی تعاون کے وسیع تر نظام کو کمزور کر سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے طرزِ عمل نے ثابت کیا ہے کہ مسلسل قانونی جدوجہد، صبر اور مؤثر سفارت کاری قومی مفادات کے دفاع کے لیے مؤثر ذرائع ہیں۔

شیری رحمٰن نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتاجبکہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہی ریاستوں کے درمیان اعتماد اور استحکام کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ذمہ دار، قانون پسند اور امن و شفافیت کے اصولوں پر کاربند ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔