پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منگل کو ’’قومی اسمبلی پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے لیس پہلے پارلیمانی نظام اور سمارٹ و موثر قانون سازی کے لیے سپیکر آفس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل تبدیلی‘‘ کی سافٹ لانچ تقریب منعقد ہوئی۔ یہ اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وژن اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے تحت شروع کیا گیا۔
پارلیمنٹ ہائوس میں ’’قومی اسمبلی پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے لیس پہلے پارلیمانی نظام اور سمارٹ و موثر قانون سازی کیلئے سپیکر آفس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل تبدیلی‘‘ کی سافٹ لانچ تقریب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منگل کو ’’قومی اسمبلی پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے لیس پہلے پارلیمانی نظام اور سمارٹ و موثر قانون سازی کے لیے سپیکر آفس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل تبدیلی‘‘ کی سافٹ لانچ تقریب منعقد ہوئی۔ یہ اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وژن اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے تحت شروع کیا گیا۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن ادارہ جاتی کارکردگی اور شفافیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس پارلیمنٹ کے قیام کے لیے تمام اراکین قومی اسمبلی کو آئی پیڈز فراہم کیے جا چکے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ میں روزانہ ہزاروں دستاویزات پر کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے بعد قومی اسمبلی مکمل طور پر پیپر لیس اور ڈیجیٹل طور پر مربوط پارلیمنٹ بن جائے گی۔سپیکر قومی اسمبلی نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اس منصوبے کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے اس اقدام کو پاکستان کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی پارلیمانی نظام کی جانب سفر میں وزارت کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔سابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین سید امین الحق نے اس اقدام کو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں قومی اسمبلی بتدریج مصنوعی ذہانت سے لیس پارلیمنٹ میں تبدیل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علم پر مبنی معیشت میں ادارہ جاتی عمل کی ڈیجیٹلائزیشن کارکردگی، شفافیت اور موثر طرز حکمرانی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی کا اہم سنگ میل ہے اور قانون سازی کے عمل کو جدت، موثریت، شفافیت اور مکمل پیپر لیس نظام کی جانب منتقل کرنے کے قومی اسمبلی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نظام نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے جبکہ رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول کی نگرانی میں اس منصوبے کی ہم آہنگی کی گئی۔انہیں سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے این آئی ٹی بی کے ساتھ رابطہ کاری اور سپیکر آفس کے لیے مربوط ڈیجیٹل نظام کی تیاری سے متعلق مشاورتی اجلاسوں کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی رہنمائی میں تیار کیے گئے اس منصوبے کا مقصد اراکین قومی اسمبلی کو ایوان کی کارروائی زیادہ موثر، منظم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ انداز میں انجام دینے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس کے ذریعے پارلیمانی معلومات تک رسائی بہتر بنانے، ورک فلو کے عمل کو موثر بنانے اور مختلف پارلیمانی امور کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے میں مدد ملے گی جس سے قانون سازی سے متعلق فیصلے مزید بروقت اور موثر انداز میں کیے جا سکیں گے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ پارلیمانی نظام ایک نہایت محفوظ اور مکمل طور پر پاکستان میں موجود پلیٹ فارم پر مشتمل ہے جو خصوصی طور پر پارلیمانی استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تمام پارلیمانی ڈیٹا پاکستان کے اندر محفوظ اور مکمل طور پر قومی اسمبلی کے کنٹرول اور تحویل میں رہے گا جس سے ادارہ جاتی سکیورٹی، عملی خودمختاری اور ڈیجیٹل پارلیمانی عمل پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔یہ اقدام جدید پارلیمانی ماڈل کی جانب پیش رفت بھی ہے جہاں ڈیجیٹل ٹولز اراکین کو قانون سازی کی ذمہ داریاں زیادہ آسانی، تیزی اور درستگی کے ساتھ انجام دینے میں مدد فراہم کریں گے جبکہ ادارہ جاتی استعداد اور عوامی خدمت کی فراہمی بھی مزید بہتر ہوگی۔
پائیدار ترقی کے 12 اہداف، جو ذمہ دارانہ استعمال اور پیداوار سے متعلق ہے، کے مطابق یہ اقدام حکومت پاکستان کی کفایت شعاری پالیسیوں کی بھی حمایت کرتا ہے کیونکہ اس سے کاغذی کارروائی پر انحصار کم ہوگا اور وسائل کے موثر استعمال کو فروغ ملے گا۔ اس پیش رفت کو ایک ایسے جدید، موثر اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پارلیمنٹ پاکستان کی تشکیل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو موجودہ دور کے حکومتی تقاضوں کو بہتر انداز میں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔تقریب میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفٰی شاہ ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، سابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، اراکین پارلیمنٹ، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سینئر حکام، سول سوسائٹی کے نمائندگان، میڈیا نمائندگان اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی ۔








