وفاقی وزیرِ صحت کی جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر سائیڈ لائن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پرسائیڈ لائن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے چین کے وزیرِ صحت سے ملاقات کی جس میں صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پرسائیڈ لائن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے چین کے وزیرِ صحت سے ملاقات کی جس میں صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیرِ صحت نے حالیہ بحران کے دوران پاکستان کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے تین اہم شعبوں میں تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فارماسیوٹیکل خام مال اور اے پی آئی کی مقامی پیداوار کے لئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں نفتھا کریکر کے فروغ اور اس کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 80 سے 90 فیصد فارماسیوٹیکل خام مال درآمد کیا جاتا ہے جبکہ اس شعبے کو موثر سطح تک پہنچانے میں دو سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے ویکسین کی مشترکہ پیداوار کی تجویز بھی پیش کی۔اس موقع پر وزیرِ صحت نے کہا کہ ڈریپ 2027 کے اوائل تک ڈبلیو ایچ او لیول تھری کا درجہ حاصل کر لے گا جس کے بعد پاکستان کی فارماسیوٹیکل مارکیٹ مزید 100 ممالک تک وسعت اختیار کر سکے گی۔فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اکتوبر 2026 میں چین کے آئندہ دورے سے قبل ان تمام امور کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی۔ پاکستان کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور عدیل ممتاز، پاکستان مشن جنیوا کو فوکل پرسنز مقرر کیا گیا ہے۔چین کے وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط اور دیرینہ بنیادوں پر قائم ہے جبکہ چین صحت کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین فارماسیوٹیکل صنعت، خام مال اور جدید ادویات کی تیاری میں پاکستان کی استعداد بڑھانے کے لئے تعاون کرے گا۔چینی وزیرِ صحت نے بتایا کہ اکتوبر 2026 میں روایتی طب پر عالمی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ صحت کو باضابطہ طور پر شرکت کی دعوت دی جائے گی۔مزید برآں چین کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے پاکستانی طلبہ کے لئے سکالرشپس میں اضافے کا اعلان بھی کیا گیا۔

ملاقات کے دوران چین کی جانب سے ’’ون چائنا پالیسی‘‘ کی حمایت کی درخواست بھی دہرائی گئی۔دونوں وزرا نے پاکستان-چین ’’لازوال دوستی‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔