سپریم کورٹ نے چیک بائونس کیس میں اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تحریری معاہدہ موجود نہ ہونے کی صورت میں معاملہ بادی النظر میں سول نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ عدالت نے60 لاکھ روپے کے چیک بائونس ہونے کے مقدمہ میں ملزم محمد فیصل کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔
سپریم کورٹ نے چیک بائونس ہونے کے مقدمے میں ملزم کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی

مزید خبریں
لاہور۔21مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے چیک بائونس کیس میں اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تحریری معاہدہ موجود نہ ہونے کی صورت میں معاملہ بادی النظر میں سول نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ عدالت نے60 لاکھ روپے کے چیک بائونس ہونے کے مقدمہ میں ملزم محمد فیصل کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ ذوہیب عمران شیخ پیش ہوئے۔ وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ تھانہ سٹی خانیوال میں60 لاکھ روپے کا چیک بائونس ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا تاہم اصل تنازع مدعی کے دوستوں کے ساتھ لین دین کا تھا، جس کی صلح کے لیے ملزم نے بطور گارنٹی چیک دیا۔ وکیل کے مطابق مدعی نے بعد ازاں چیک کا غلط استعمال کرتے ہوئے مقدمہ درج کرا دیا۔ عدالت کے مطابق بادی النظر میں معاملہ کاروباری لین دین اور سول نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عبوری ضمانت کے مرحلے پر شواہد کی گہرائی میں جانا ٹرائل کورٹ کا اختیار ہے اور ملزم کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے کا حتمی تعین ٹرائل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ عدالت نے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔








