اسلام آباد چیمبر کا کاروبار دوست اور برآمدات پر مرکوز وفاقی بجٹ کا مطالبہ،نجی شعبہ کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں، سردار طاہر محمود

اسلام آباد چیمبر کا کاروبار دوست اور برآمدات پر مرکوز وفاقی بجٹ کا مطالبہ،نجی شعبہ کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں، سردار طاہر محمود

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ کاروبار دوست، برآمدات پر مبنی اور سرمایہ کاری کے فروغ کا حامل ہو گا جو نہ صرف تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملک میں پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو چیمبر ہائوس میں کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر آئندہ بجٹ میں کاروباری اعتماد کی بحالی، صنعتکاری کے فروغ، برآمدات میں اضافہ اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کو عملی اور دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بحالی اور قومی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کر سکے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے زور دیا کہ ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے تاکہ کاروباری طبقہ پر بوجھ کم ہو اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھاری ٹیکسوں اور پیچیدہ طریقہ کار کے باعث سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو آزادانہ اور خودمختار انداز میں کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ پاکستان خطے میں تجارت اور کاروبار کا ایک فعال مرکز بن سکے۔سردار طاہر محمود نے حکومت کی جانب سے تعمیرات اور ہائوسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کو عملی حکمت عملی مرتب کرنے اور اس پر موثر عملدرآمد کی ہدایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً دو کروڑ رہائشی یونٹس کی کمی کا سامنا ہے، لہٰذا حکومت کو ہائوسنگ اور تعمیراتی شعبوں میں سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ڈویلپرز کی سہولت کے لیے جامع ون ونڈو نظام متعارف کرانا چاہیے۔

انہوں نے سپر ٹیکس کے فوری خاتمہ کا مطالبہ کیا تاکہ بڑھتی ہوئی لاگت اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو، صنعتوں اور کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ بھی کم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور قومی معیشت مزید مستحکم ہو گی۔بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ کپیسٹی چارجز کے بھاری بوجھ کا خاتمہ ہو اور صنعتوں و صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی لاگت نے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے جو صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر جو سٹیل، سیمنٹ، ٹائلز، پینٹ، الیکٹریکل سامان اور تعمیراتی میٹریل سمیت تقریباً 60 سے 70 ذیلی صنعتوں کو سہارا دیتا ہے، قومی معیشت میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کے لیے مراعاتی پالیسیوں سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، محصولات میں بہتری اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔آخر میں سردار طاہر محمود نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور ترقی پسند بجٹ پیش کرے گی جو سرمایہ کاری کے فروغ، برآمد کنندگان کی معاونت، کاروبار کی لاگت میں کمی اور ملک میں طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

مزید خبریں