اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سپریم جوڈیشل کونسل کے گزشتہ اجلاس کی تفصیلات جاری کردی گئیں جس میں چیف جسٹس ،جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر پانچ شکایات کو متفقہ طور پر خارج کئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پہلی شکایت پشاور ہائی کورٹ کے وکیل صبغت اللہ شاہ کی جانب سے 2016 میں بطور جج پشاور ہائی کورٹ …
سپریم جوڈیشل کونسل کے گزشتہ اجلاس کی تفصیلات جاری کردی گئیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سپریم جوڈیشل کونسل کے گزشتہ اجلاس کی تفصیلات جاری کردی گئیں جس میں چیف جسٹس ،جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر پانچ شکایات کو متفقہ طور پر خارج کئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پہلی شکایت پشاور ہائی کورٹ کے وکیل صبغت اللہ شاہ کی جانب سے 2016 میں بطور جج پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایڈیشنل سیشن ججز کی تقرری کے عمل میں میرٹ کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کونسل نے 14 مئی کے اجلاس میں یہ شکایت متفقہ طور پر خارج کردی۔دوسری شکایت کراچی کے شہری امجد حسین درانی نے دائر کی جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کا مقدمہ سپریم کورٹ میں بغیر شنوائی کے خارج کیا گیا جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق یہ شکایت بھی متفقہ طور پر خارج کردی گئی۔ تیسری شکایت کراچی کے رہائشی کامران خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ انہیں اپنی شکایت کے حوالے سے شنوائی کا موقع نہیں دیا گیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شکایت کو بھی متفقہ طور پر مسترد کردیا۔چوتھی شکایت وہاڑی کے رہائشی محمد مسعود نے دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مارچ 2023 میں دیوانی مقدمہ میں دیا گیا فیصلہ قانون اور حقائق کے منافی تھا اور اسے مس کنڈکٹ قرار دیا گیا۔ یہ شکایت بھی کونسل نے خارج کردی۔پانچویں شکایت لاہور ہائی کورٹ کے وکیل امجد محمود نے دائر کی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ دسمبر 2024 میں ایک وکیل پر سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ ہے۔ کونسل نے یہ شکایت بھی متفقہ طور پر خارج کردی۔اعلامیہ کے مطابق تمام پانچوں شکایات پر غور کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں قابل سماعت نہ سمجھتے ہوئے متفقہ طور پر خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔








