وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے زیرو کوپن بانڈز کے حوالے سے جاری بحث کی وضاحت

وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے زیرو کوپن بانڈز کے حوالے سے جاری بحث کی وضاحت

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے زیرو کوپن بانڈز کے حوالے سے جاری بحث کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض حلقے اس معاملے کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے حکومت نے آج 80 ارب روپے حاصل کرکے 15 سال بعد 512 ارب روپے کا غیر معمولی بوجھ اپنے اوپر ڈال لیا ہو، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سادہ اور مالیاتی اصولوں کے مطابق ہے۔

جمعرات کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص یا حکومت کو آئندہ 15 برسوں میں مسلسل قرض لینے کی ضرورت پیش آئے تو ایک طریقہ یہ ہوگا کہ ہر سال مارکیٹ سے نئی رقم حاصل کی جائے جس پر سود بھی ادا کرنا پڑے اور شرح سود میں اضافے کی صورت میں مزید مہنگا قرض لینا پڑے۔ اس کے برعکس زیرو کوپن بانڈ کی صورت میں مستقبل کی بڑی ضرورت کے بدلے آج نسبتاً کم رقم حاصل کی جاتی ہے اور طے شدہ مدت مکمل ہونے پر ایک مرتبہ اصل رقم ادا کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام میں درمیان کے برسوں میں سالانہ سود کی ادائیگی نہیں کرنا پڑتی، نہ ہی ہر سال نئی فنانسنگ کے لیے مارکیٹ میں جانا پڑتا ہے جبکہ شرح سود میں اتار چڑھائو کے خطرات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کوئی غیر معمولی یا ’’جادوئی‘‘ طریقہ نہیں بلکہ مالیاتی دنیا میں رائج ’’وقت کے ساتھ رقم کی قدر‘‘ کے اصول پر مبنی ایک عام حکمت عملی ہے۔خرم شہزاد نے واضح کیا کہ امریکہ، برطانیہ، جاپان، روس، میکسیکو، برازیل اور ارجنٹینا سمیت کئی ممالک زیرو کوپن بانڈز یا اسی نوعیت کے رعایتی قرضہ جاتی ذرائع استعمال کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایسے بانڈز کا حجم مجموعی سرکاری قرضے کے تقریباً 5 فیصد کے قریب ہے، لہٰذا یہ پورے قرضے کا بڑا حصہ نہیں بلکہ ایک محدود مالیاتی ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان بانڈز میں زیادہ دلچسپی انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز کی ہوتی ہے کیونکہ انہیں مستقبل میں بڑی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں، اس لیے وہ آج سرمایہ کاری کرکے مستقبل میں زیادہ رقم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتیں بھی اس ذریعے سے طویل المدتی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کر سکتی ہیں اور حاصل شدہ وسائل کو ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری پر خرچ کر سکتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ صرف یہ کہنا کہ ’’80 ارب لے کر 512 ارب واپس کیے جائیں گے‘‘ مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ کسی بھی مالیاتی معاملے کو وقت، شرح منافع، مہنگائی، مالی بہائو اور مارکیٹ کے حالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی معاملات پر تنقید اور سوالات اہم ہیں تاہم عوام تک درست اور مکمل معلومات پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔