سری لنکا کرکٹ بورڈ کے عبوری سربراہ ایران وکرامارتنے نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے میں مالی بے ضابطگیاں ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہیں جبکہ تمام معاملات کی مکمل چھان بین اور وسیع اصلاحات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
سری لنکا کرکٹ کے مالی معاملات توقعات سے زیادہ خراب نکلے، عبوری سربراہ

مزید خبریں
کولمبو۔22مئی (اے پی پی):سری لنکا کرکٹ بورڈ کے عبوری سربراہ ایران وکرامارتنے نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے میں مالی بے ضابطگیاں ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہیں جبکہ تمام معاملات کی مکمل چھان بین اور وسیع اصلاحات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق کولمبو میں اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران وکرامارتنے نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ کے مالی ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ تمام بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں مالی معاملات توقعات سے زیادہ خراب دکھائی دے رہے ہیں۔عبوری سربراہ نے بتایا کہ صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نئی انتظامیہ کرکٹ بورڈ میں شفافیت، احتساب اور انتظامی اصلاحات لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ساتھ مسلسل رابطہ جاری ہے اور اصلاحاتی عمل پر مثبت بات چیت ہو رہی ہے۔
ایران وکرامارتنے کے مطابق سری لنکا کرکٹ کے آئین میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ چند گروہوں کی طویل عرصے تک اجارہ داری اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سری لنکا کرکٹ کے منتخب عہدیداروں نے حکومتی دباؤ کے بعد اجتماعی استعفے دے دئیے تھے، جس کے بعد عبوری انتظامیہ تشکیل دی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ممکنہ پابندی کے خدشات بھی پیدا ہوئے تھے، کیونکہ 2023 میں بھی سیاسی مداخلت کے باعث سری لنکا کرکٹ کو عارضی معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔سابق صدر شمی سلوا اور ان کی کمیٹی کو قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر بھی شدید تنقید کا سامنا تھا، خصوصاً رواں برس بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقدہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں سری لنکا کی ابتدائی مرحلے میں ناکامی کے بعد دباؤ میں اضافہ ہوا۔








