آئی پی او پاکستان کی ڈیجیٹلائزیشن چھ ماہ میں مکمل، زیر التوا درخواستوں پر کام جاری ہے،ڈی جی آئی پی او

لاہور۔22مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن پاکستان نعمان اسلم شیخ نے کہا ہے کہ ادارے کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن آئندہ چھ ماہ میں مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد آئی پی او پاکستان کی تمام خدمات جدید، تیز رفتار، شفاف اور فاسٹ ٹریک نظام کے تحت فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں جاری اصلاحات کے نتیجے میں پراسیسنگ ٹائم میں واضح کمی آئی …

لاہور۔22مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن پاکستان نعمان اسلم شیخ نے کہا ہے کہ ادارے کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن آئندہ چھ ماہ میں مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد آئی پی او پاکستان کی تمام خدمات جدید، تیز رفتار، شفاف اور فاسٹ ٹریک نظام کے تحت فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں جاری اصلاحات کے نتیجے میں پراسیسنگ ٹائم میں واضح کمی آئی ہے، جہاں پہلے ایک درخواست کی تکمیل میں تین سے چار ماہ لگتے تھے اب یہ مدت کم ہو کر ایک ماہ تک آ گئی ہے۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ڈائریکٹر جنرل آئی پی او پاکستان نعمان اسلم شیخ کا لاہور چیمبر آمد پر خیرمقدم کیا اور کہا کہ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن پاکستان کا کردار کاروباری تحفظ،برانڈ ویلیو کے تحفظ اور برآمدی ترقی کے فروغ کیلئے نہایت اہم ہے۔اجلاس میں لاہور چیمبر کے ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران رانا نثار، محسن بشیر، شعبان اختر، فردوس نثار اور کنوینر تجمل حیدر بھی موجود تھے۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ آئی پی او پاکستان کی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات سے کاروباری برادری کو براہِ راست سہولتیں حاصل ہوں گی اور یہ اقدامات سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ کریں گے۔صدر لاہور چیمبر نے برانڈ رجسٹریشن، ٹریڈ مارکس کے تحفظ اور انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلق آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو اپنے برانڈز اور آئی پی حقوق کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ مضبوط انٹلیکچوئل پراپرٹی نظام ہی پائیدار صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے بنیادی شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے کاروباری ادارے اپنے برانڈز رجسٹر نہیں کرواتے جو ایک بڑی کمزوری ہے، جس سے نقل اور غیر قانونی استعمال کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی پی او پاکستان نعمان اسلم شیخ نے کہا کہ کاروباری طبقے میں انٹلیکچوئل پراپرٹی سروسز کے حوالے سے آگاہی کا واضح خلا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ اس خلا کو پر کرنے کیلئے بھرپور مہم چلا رہا ہے جس میں سوشل میڈیا، ویب سائٹس، اینیمیٹڈ ویڈیوز اور پانچ زبانوں میں آگاہی پیغامات شامل ہیں جبکہ لیڈنگ چیمبرز کو باضابطہ خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زیر التوا درخواستوں کا بڑا بیک لاگ بھی موثر حکمت عملی کے تحت کم کیا گیا ہے، جو تیس ہزار سے زائد سے کم ہو کر تقریبا تین ہزار تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے اجرا کو کاروباری برادری کیلئے ایک اہم اور فوری سہولت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کئی کاروباری افراد اپنے برانڈز رجسٹر نہیں کرواتے جو ایک بڑی کوتاہی ہے، جبکہ کامیاب اور چلتے ہوئے برانڈز کی نقل اور انفرنجمنٹ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ آئی پی او پاکستان کو عالمی معیار کے مطابق ادارہ بنانے کیلئے جامع اصلاحات جاری ہیں، اور ڈیجیٹلائزیشن کے مکمل ہونے کے بعد سروس ڈیلیوری مزید تیز، موثر اور شفاف ہو جائے گی۔

مزید خبریں