پاکستان روایتی پاور پلانٹس کے بجائے قابلِ تجدید توانائی انضمام پر توجہ دے، ماہرین

توانائی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ بڑھتے ہوئے مالی نقصانات، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے ضیاع، کمزور ترسیلی نظام اور صنعتی طلب میں مسلسل کمی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مسائل سے نمٹنے کےلئے سیکٹر کپلنگ اصلاحات، قابلِ تجدید توانائی کے مو ثر انضمام، اسمارٹ گرڈ نظام، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور …

اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):توانائی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ بڑھتے ہوئے مالی نقصانات، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے ضیاع، کمزور ترسیلی نظام اور صنعتی طلب میں مسلسل کمی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مسائل سے نمٹنے کےلئے سیکٹر کپلنگ اصلاحات، قابلِ تجدید توانائی کے مو ثر انضمام، اسمارٹ گرڈ نظام، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فوری فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)اسلام آباد کے زیر اہتمام”پاکستان میں سیکٹر کپلنگ کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور چینی نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع“ کے عنوان سے منعقدہ مکالمے میں ماہرین نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت بیٹری ٹیکنالوجی، اسمارٹ میٹرز، ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر، گرڈ ڈیجیٹلائزیشن اور قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے صنعتی زونز میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحرک بجلی نرخ، صنعتی برقی کاری اور مربوط توانائی منصوبہ بندی کے ذریعے نہ صرف کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قومی گرڈ کو بھی زیادہ مستحکم اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔مباحثے کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ محمد عمر نے کہا کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ 41 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت رکھنے کے باوجود کم استعمال کے مسئلے سے دوچار ہے جبکہ تھرمل پاور پلانٹس کی استعدادِ کار 40 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والےمنصوبے شدید کٹوتیوں کا شکار ہیں جس سے اربوں روپے کے مالی نقصانات اور نان پراجیکٹ مسڈ والیوم ادائیگیاں سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ کم طلب کے اوقات میں اضافی بجلی استعمال کرنے کے لئے پاور ٹوٹرانسپورٹ اور پاور ٹو انڈسٹری جیسے سیکٹر کپلنگ ماڈلز متعارف کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ، متحرک بجلی نرخ اور گرین امونیا پلانٹس و کولڈاسٹوریج جیسی لچکدار صنعتی سرگرمیاں قومی لوڈ کَرو کو متوازن بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔یونائیٹڈ انرجی کےڈائریکٹر آپریشنز اینڈکوآرڈینیشن تنویر احمد مرزا نے کہا کہ پاکستان کو مزید روایتی بجلی منصوبے شروع کرنے کے بجائے قابلِ تجدید توانائی کے انضمام اور سیکٹر کپلنگ اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔

انہوں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور اسپورٹس گڈز جیسی برآمدی صنعتوں کے لئے قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے صنعتی زونز کے پائلٹ منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے گنے کی پیداوار کو مدنظر رکھتےہوئے ایتھانول ایندھن کی پیداوار بڑھانے کی بھی سفارش کی تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔قابلِ تجدید توانائی کے ماہر اور ونڈ پاور ڈویلپر عرفان احمد نے کہا کہ سندھ میں ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی کٹوتیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کر رہی ہیں اور اس شعبے کو بھاری مالی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور ترسیلی نظام، صنعتی طلب میں کمی اور گرڈ کی جدید خطوط پر عدم استواری اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں جبکہ مسلسل کٹوتیوں سے ونڈ ٹربائنز کی عمر بھی کم ہو رہی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ کے۔2 اور کے۔3 جیسے کم استعمال ہونے والے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو قابلِ تجدید توانائی کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ گرڈ کو مستحکم اور صاف توانائی کےحصے کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نےصوبائی سطح پر مربوط توانائی منصوبہ بندی، ونڈ ٹاورز اور برقی نظام کی مقامی تیاری اور کنکریٹ ونڈ ٹاورز کے استعمال کی بھی سفارش کی۔پالیسی اینڈ اسٹریٹیجی و پاور پلاننگ کے سینئر ایڈوائزر کامل مقصود نے کہا کہ ترسیلی رکاوٹوں کو دور کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے بہتر انضمام کے لئے بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج سسٹمز، ٹرانسمیشن لائنوں کی اپ گریڈیشن اور جدید میٹرنگ نظام پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 20 لاکھ اسمارٹ میٹرز نصب کئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ ضوابط، مربوط منصوبہ بندی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بیٹری ٹیکنالوجی،ٹرانسمیشن سسٹمز، اسمارٹ میٹرز، چارجنگ انفراسٹرکچر اور گرڈ ڈیجیٹلائزیشن کو چینی سرمایہ کاروں کےلئے اہم مواقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے مختلف شعبوں کے درمیان موثر روابط اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بغیر قابلِ تجدید توانائی اور سیکٹرل انضمام کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔