اکستان نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجناس (جی ایم اوز) سے متعلق بایو سیفٹی نظام میں اہم اصلاحات کرتے ہوئے پاکستان بایو سیفٹی رولز 2005 میں ترامیم کی منظوری کے لیے سفارشات تیار کر لیں۔ مجوزہ ترامیم کے تحت ڈائریکٹر جنرل پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک۔ ا ی پی اے) کے صوابدیدی اختیارات محدود،لائسنسنگ کا نظام آسان اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے اداروں کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز …
پاکستان نے پاکستان بایو سیفٹی رولز 2005 میں ترامیم کی منظوری کے لیے سفارشات تیار کر لیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):پاکستان نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجناس (جی ایم اوز) سے متعلق بایو سیفٹی نظام میں اہم اصلاحات کرتے ہوئے پاکستان بایو سیفٹی رولز 2005 میں ترامیم کی منظوری کے لیے سفارشات تیار کر لیں۔ مجوزہ ترامیم کے تحت ڈائریکٹر جنرل پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک۔ ا ی پی اے) کے صوابدیدی اختیارات محدود،لائسنسنگ کا نظام آسان اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے اداروں کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق نیشنل بایو سیفٹی کمیٹی (این بی سی) کے حالیہ اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری دے کر انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔ نئی ترامیم کے تحت جی ایم او سویا بین اور کینولا کی درآمد پر عائد “سن سیٹ کلاز” ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ شق 2024 میں متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت فوڈ، فیڈ اور پروسیسنگ مقاصد کے لیے جی ایم او اجناس کی درآمد 17 جنوری 2027 تک محدود تھی۔ حکام کے مطابق اب خطرات میں کمی کے باعث اس پابندی کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مجوزہ ترامیم میں جدید جین ٹیکنالوجی اور جین ایڈیٹنگ طریقوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹیوں اور نجی تحقیقی اداروں میں طلبہ کی لیبارٹری تحقیق کی منظوری کے اختیارات ادارہ جاتی بایو سیفٹی کمیٹیوں (آئی بی سیز) کو منتقل کیے گئے ہیں تاکہ سائنسی تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔پاکستان کے بایو سیفٹی نظام میں مختلف سطحوں پر کمیٹیاں قائم ہیں جو کارٹیجینا پروٹوکول کے تحت نگرانی کرتی ہیں۔ نئی اصلاحات کے ذریعے کمیٹیوں کے اختیارات اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کر کے بیوروکریسی کم کرنے اوربروقت فیصلے یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کمیٹیوں کی رکنیت کو بھی باقاعدہ اور تکنیکی ماہرین کی شمولیت کے ساتھ منظم کیا گیا ہے۔اصلاحات کے تحت درآمدی جی ایم اجناس کی لائسنسنگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
موجودہ نظام میں نجی شعبے کو متعدد کمیٹیوں سے منظوری لینا پڑتی تھی جبکہ مختلف سطحوں پر اختیارات کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ نئے نظام کے مطابق اصل ٹیکنالوجی تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنیاں براہ راست جی ایم ایونٹس کے لائسنس کے لیے درخواست دے سکیں گی۔ این بی سی کی منظوری کے بعد یہ لائسنس پاک۔ ای پی اے کی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے اور نجی شعبہ انہی لائسنسوں کی بنیاد پر خوردنی تیل اور جانوروں کی خوراک کے لیے جی ایم اجناس درآمد کر سکے گا۔پریس ریلیز کے مطابق اس اقدام سے کاروباری لاگت میں کمی اور خوردنی تیل و پولٹری فیڈ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
پاکستان بایو سیفٹی کلیئرنگ ہاؤس کے نیشنل پروگرام منیجر ڈاکٹر محمد رؤف نے کہا کہ پاکستان کے بایو سیفٹی نظام کو زیادہ سائنسی، کاروبار دوست اور جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کے بایو سیفٹی ماڈل کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد میں کینیڈین ہائی کمیشن کے کمرشل سیکشن سے تکنیکی معاونت پر بات چیت جاری ہے۔








