پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن نے جمہوریہ روانڈا کی ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو سے ملاقات کے دوران پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ، برآمدات میں اضافہ اور باہمی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا
پاکستان روانڈا کے ذریعے دیگر منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،چیئرمین پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔24مئی (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن نے جمہوریہ روانڈا کی ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو سے ملاقات کے دوران پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ، برآمدات میں اضافہ اور باہمی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔اس موقع پر روانڈا ہائی کمیشن کے ہیڈ آف فنانس اینڈ ٹریڈ منسٹر کویبوکا اسدراس اور دیگر بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر چیئرمین پی سی ایم ای اے میاں عتیق الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت روانڈا کی مارکیٹ میں بھرپور انداز میں داخل ہونے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی خواہاں ہے۔ روانڈا میں پاکستانی سفارتخانے کو اس سلسلہ میں اپنا متحرک کردار ادا کرنا چاہیے ۔روانڈا مارکیٹ میں کامیابی کے بعد وزارت تجارت سے پاکستان اور روانڈا کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کی باضابطہ درخواست بھی کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید وسعت مل سکے۔ پاکستان روانڈا کے ذریعے دیگر ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔علاوہ ازیں ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں عتیق الرحمن اور وائس چیئرمین ریاض احمد نے حکومت سے رواں سال اکتوبر میں لاہور میں شیڈول ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کے انتظامات کیلئے فنڈز کے فوری اجراء کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا روایتی حریف بھارت بھی اسی طرز کی نمائش کا انعقاد کرتا ہے جس کے مقابلے کے لئے ہمیں بروقت غیرمعمولی تیاریوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کے بروقت اجرا سے غیر ملکی خریداروں اور وفود کی بہتر میزبانی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ۔میاں عتیق الرحمن او ر ریاض احمد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ فنڈز کے بروقت اجرا کےلئے احکامات جاری کئے جائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیلئے خصوصی ریلیف پیکج کا بھی اعلان کیا جائے کیونکہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت پاکستان کی قدیم ترین برآمدی صنعتوں میں شامل ہے اور اس کا ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کمانے میں کلیدی کردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، توانائی بحران اور ٹیکسز سے صنعت کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے جن کے تدارک کےلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ۔








