سی پیک کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر اور بحریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین پاک چین تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین پاک چین تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، پروفیسر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24مئی (اے پی پی):سی پیک کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر اور بحریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین پاک چین تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور ہر آزمائش میں ساتھ نبھانے کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاک چین تعلقات محض سفارتی تعاون تک محدود نہیں رہے بلکہ دفاع، معیشت، توانائی، انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ چین سی پیک کے دوسرے مرحلہ کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں، توانائی بحران کے خاتمہ، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز، زرعی جدیدکاری، گرین انرجی، ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی قیادت پاکستان کو خطے میں ایک اہم اقتصادی و جغرافیائی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ پاکستان بھی ’’ون چائنا پالیسی‘‘ پر اپنے غیر متزلزل مؤقف کے ذریعے چین کے بنیادی مفادات کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف خطے میں اقتصادی استحکام کو فروغ دے گا بلکہ علاقائی امن، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کے دورۂ چین سے سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور تجارتی روابط کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدے پاکستان کی اقتصادی بحالی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط، بالغ اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہوتی جا رہی ہے اور مستقبل میں یہ شراکت داری خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک مثبت قوت کے طور پر ابھرے گی۔








