سپریم کورٹ میں پانچ سزا یافتہ قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت، جیلوں سے رہائی ، ایک ملزم کے انتقال سے متعلق تفصیلات ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیسز نمٹا دیئے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانچ سزا یافتہ قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت کے دوران جیلوں سے رہائی اور ایک ملزم کے انتقال سے متعلق تفصیلات ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیسز نمٹا دیئے۔

اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانچ سزا یافتہ قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت کے دوران جیلوں سے رہائی اور ایک ملزم کے انتقال سے متعلق تفصیلات ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیسز نمٹا دیئے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئےعدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سزا یافتہ قیدی عبدالحکیم شاہد، محسن علی اور اللہ دتہ جیل سے رہا ہو چکے ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدی شاہد خان کی رہائی بھی ہو چکی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ایک اپیل کنندہ جاوید اقبال کا انتقال ہو چکا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل ذوالفقار احمد کو طلب کر لیا جو بعد ازاں عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا ان کیسز سے متعلق کوئی ضمانت قبل از گرفتاری یا بعد از گرفتاری زیر التوا ہے۔ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی نوعیت کی ضمانت قبل از گرفتاری یا بعد از گرفتاری کی کوئی درخواست زیر التوا نہیں، نہ ہی اسلام آباد رجسٹری میں ایسی کوئی اپیل موجود ہے۔عدالت نے کیس فکسیشن پالیسی اور فہرست سازی سے متعلق بھی استفسار کیا جس پر عدالت کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سپریم کورٹ نے ریکارڈ کی تصدیق اور وضاحت کے بعد تمام متعلقہ اپیلیں نمٹا دیں۔