قلعہ سیف اللہ میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت پر سیمینار، سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی بحالی کا اعلان

قلعہ سیف اللہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز اور جدید زرعی طریقہ کار سے آگاہی کیلئے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

کوئٹہ۔ 25 مئی (اے پی پی):قلعہ سیف اللہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز اور جدید زرعی طریقہ کار سے آگاہی کیلئے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیمینار میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت، مٹی اور پانی کے تجزیے، باغات کے موثر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید زرعی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ بلوچستان ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ، ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ ڈاکٹر عصمت اللہ ترین، سابق ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ محمد شریف کاکڑ، گل محمد پانیزئی، سائنٹیفک آفیسر اولیو پراجیکٹ معراج خان، ریسرچ آفیسر اسفندیار کاکڑ، ماہر زراعت میر محمد، صدر ایگریکلچر مارکیٹ اجمل جوگیزئی اور ڈسٹرکٹ چیئرمین زمیندار قلعہ سیف اللہ عبداللہ جان مرزئی نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زراعت کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس لئے پانی کی کمی کے پیش نظر متبادل فصلوں کی کاشت، جدید باغبانی اور موسمیاتی لحاظ سےموثرزرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ بلوچستان نے سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقی ٹیم ماہانہ بنیادوں پر زمینداروں سے مٹی کے نمونے حاصل کرکے صوبائی لیبارٹری بھجوائے گی تاکہ سائنسی تجزیے کے ذریعے کاشتکاروں کو مطلوبہ کھادوں اور غذائی اجزا کے درست استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے زمین کی زرخیزی بہتر ہوگی اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا۔سیمینار میں شریک زمینداروں نے تصدیق شدہ بیجوں اور پودوں کی فراہمی، مٹی کے نمونے حاصل کرنے کے طریقہ کار، زیتون کی اقسام اور باغات کے انتظام سے متعلق مختلف سوالات بھی اٹھائے، جن کے زرعی ماہرین نے جوابات دیئے۔ماہرین زراعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاشتکاروں کو جدید موسمیاتی موافق زرعی طریقوں سے متعلق مسلسل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ بلوچستان کے زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔