عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا وبا انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکی ہے،
کانگو میں ایبولا وبا بے قابو، بدامنی اور تنازعات نے صورتحال مزید پیچیدہ ،ڈبلیو ایچ او

مزید خبریں
کنشاسا۔29مئی (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا وبا انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں تنازعات، بدامنی، نقل مکانی، خوراک کی قلت اور عوامی عدم اعتماد وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔شنہوا کے مطابق کانگو کے دارالحکومت کنشاسا پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیڈروس نے کہا کہ وہ متاثرہ کمیونٹیز کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور عالمی ادارۂ صحت ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں پہلے ہی مشرقی صوبے ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں کام کر رہی ہیں جبکہ وہ خود جمعہ کے روز صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں جائیں گے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ مسلح حملوں اور بدامنی کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، اسی لیے انہوں نے متاثرہ علاقوں میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی دہرایا۔بعض ممالک کی جانب سے کانگو سے آنے والے مسافروں پر عائد سفری پابندیوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او سفری پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے وائرس کی منتقلی صرف چند دن کے لیے تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ وبا کے اصل مرکز پر حفاظتی اقدامات سخت کرنا اور متاثرہ ملک کی مدد کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔
ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ سفری پابندیاں عوامی صحت کے لیے منفی نتائج پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ جو ممالک شفاف انداز میں وبا کی اطلاع دیتے ہیں، وہ خود کو سزا یافتہ محسوس کر سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں بروقت رپورٹنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کانگو کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد مشتبہ کیسز اور 238 مشتبہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ وبا مشرقی صوبوں میں مسلسل پھیل رہی ہے۔یہ کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹوں میں وائرس کی نایاب قسم "بونڈی بوجیو اسٹرین” کی تصدیق ہوئی ہے۔عالمی ادارۂ صحت نے 17 مئی کو اس وبا کو بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا جبکہ افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی بعد ازاں براعظمی ایمرجنسی نافذ کر دی۔








