لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق اہم نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درست ویزا، ٹکٹ اور مکمل سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کی بیرون ملک سفر کرنے والوں سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری

مزید خبریں
لاہور۔29مئی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق اہم نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درست ویزا، ٹکٹ اور مکمل سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں ایف آئی اے کی جانب سے شہری کو نائجیریا جانے سے روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے باوجود اسے اچانک آف لوڈ کر دیا گیا، جبکہ ایف آئی اے نے صرف اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاید وہ دبئی سے واپس نہ آئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کسی مقدمے، انکوائری، بلیک لسٹ یا ای سی ایل میں شامل نہیں تھا، اس کے باوجود اسے سفر سے روکنے کے باعث مالی نقصان، ذہنی اذیت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔عدالت نے قرار دیا کہ بیرون ملک سفر کرنا آئین کے تحت شہری کا بنیادی حق ہے اور ایف آئی اے کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔عدالت نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آف لوڈنگ کے وقت متعلقہ افسران کو تفصیلی اور واضح وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات بھی مکمل طور پر درج کیے جائیں گے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کی اپنے بھائی کے پاس نائجیریا جانے کی وضاحت غیر معقول نہیں تھی، تاہم ایف آئی اے اس وضاحت کو مسترد کرنے کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکی۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ متاثرہ شہری چاہے تو ہرجانے کے حصول کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔








